Al-Risala · August 2006 · page 29

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۲۹

یونیورسل ماڈل آف کو اگزسٹنس کہا جاسکتا ہے۔ یہی فطری فارمولا انسان سے بھی مطلوب ہے، اس طرح کہ خلا کے اجرام جس طریقے کو لازمی قانون فطرت کے تحت، مجبورا نہ طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں اس کو انسان اپنی اجتماعی زندگی میں خود اپنے ارادے اور شعور کے تحت اختیار کرے ۔ اسی کا نام بقائے باہم ہے۔

میں نے کہا ہماری دنیا فرق (difference) کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر طرف فرق اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ میں نے آر۔ ایس۔ ایس کے سابق چیف گرو گول والکر کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ بھی اس کو مانتے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے: Nature abhors uniformity. ایسی حالت میں کوئی ایسا فارمولا قابل عمل ہی نہیں جو فرق اور اختلاف کو مٹانے کے اصول پر قائم ہو۔ صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ۔ ہم فرق کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھیں، ہم فرق کے باوجود متحد ہو کر جینا سیکھیں :

We have to learn the art of difference management. میں نے کہا کہ اسلام میں دو قسم کا بقائے باہم پایا جاتا ہے۔ ایک، بلا اعلان بقائے باہم (undeclared co-existence) اور دوسرا، اعلان کے ساتھ بقائے باہم (declared co-existence)۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں مسلمان اس طرح رہیں کہ وہ کسی دوسرے کے لیے پرابلم پیدا نہ کریں۔ وہ معاشرے میں نو پرابلم انسان بن کر رہیں ۔ یہ بلا اعلان بقائے باہم کی مثال ہے۔ اسی طرح میں نے صلح حدیبیہ کی مثال دی۔ میں نے کہا کہ حدیبیہ کا معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فریق ثانی کے درمیان اس بات پر ہوا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف جنگی اقدام نہیں کریں گے۔ یہ اعلان کے ساتھ بقائے باہم کی مثال ہے۔

پروگرام کے خاتمے پر ڈاکٹر چودھری صدر جلسہ کی حیثیت سے اسٹیج پر آئے۔ وہ آر۔ ایس۔ ایس

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page