Al-Risala · August 2006 · page 30

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳۰

کے مقامی لیڈر ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں میری باتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بتایا کہ اسلام امن اور بقائے باہم کے اصول کو مانتا ہے۔ آپ کی یہ بات ٹھیک ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہندوؤں میں گاندھی پیدا ہوئے جنھوں نے امن جیسی مثبت قدروں کی بات کی اور اس کے خلاف چلنے والوں کو کنڈم کیا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں مولا نا صاحب ہی اکیلے اس قسم کی بات کہتے ہیں۔ آخر دوسرے مسلم علماء ایسا کیوں نہیں کہتے۔ اس کے جواب میں میں نے مائیک پر آ کر یہ کہا: Gandhi was one and also Maulana is one. Moreover, Gandhi was shot dead, and Maulana is alive, addressing this mixed gathering. اس موقع پر ہمارے ساتھی CPS International کے دعوتی بروشر اور پمفلٹ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا۔ لوگوں نے بہت شوق کے ساتھ اس کو لیا اور اس کو پڑھنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ دوبارہ حبیب بھائی کے گھر واپس آگئے ۔ یہاں اُس وقت باقاعدہ طور پر کوئی پروگرام نہیں تھا۔ البتہ کچھ تعلیم یافتہ افراد وہاں آگئے اور ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ بھارتیہ ودیا بھون کے پروگرام میں ڈاکٹر چودھری نے موجودہ مسلمانوں کے طرزِ عمل کے خلاف کئی باتیں کہی تھیں مگر آپ نے ان کا جواب نہیں دیا۔ مثلاً ڈاکٹر چودھری نے کہا تھا کہ مولانا محمد علی جوہر نے ایک بار اپنے بیان میں کہا کہ جہاں تک پالیٹکس کا تعلق ہے مہاتما گاندھی میرے لیڈر ہیں۔ مگر جہاں تک مذہبی حیثیت سے مسلمانوں کا تعلق ہے میں ایک فاسق وفاجر مسلمان کو مہاتما گاندھی سے اچھا سمجھتا ہوں۔

میں نے کہا کہ آپ لوگ چوں کہ اسلام اور مسلمانوں کو ایک سمجھتے ہیں اس لیے آپ کو یہ چیز مسئلہ معلوم ہوتی ہے۔ مگر میں اسلام اور مسلمانوں کو ایک نہیں سمجھتا۔ اس لیے یہ میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے کہا کہ میری پالیسی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کے خلاف بولے تو میں ضرور اس کا جواب دیتا ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص مسلمانوں کے رویے پر تنقید کرے تو میں کہہ دیتا ہوں کہ میں اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page