Co-existence in Islam
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳۱
کا ایڈوکیٹ ہوں نہ کہ مسلمانوں کا۔ آپ لوگ مسلمانوں کے طرز عمل کے بارے میں مسلمانوں سے دریافت کر سکتے ہیں۔
حبیب بھائی نے یہ سوال کیا کہ آپ امن (peace) کا جو پیغام دے رہے ہیں کیا ایسی کوئی آئیڈیل سوسائٹی دنیا میں رہی ہے جہاں پوری طرح امن کا ماحول قائم ہو گیا ہو۔ اگر ایسی کوئی سوسائٹی ہو تو اس کے متعلق ، ہم کو بتائیں ۔
میں نے کہا کہ یہ سوال صرف آپ کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ سارے مفکروں اور رہنماؤں کا سوال ہے۔ تمام لوگ یہ تلاش کر رہے ہیں کہ ایسی کوئی سوسائٹی ملے جہاں اس قسم کا پر امن ماحول قائم ہو۔ اور جب وہ ایسی سوسائٹی نہیں پاتے تو وہ توڑ پھوڑ کی پالکس چلانے لگتے ہیں تا کہ اپنے خیال کے مطابق، موجودہ غیر معیاری سماج کو توڑ کروہ مطلوب معیاری سماج بنا ئیں ۔
میں نے کہا کہ اس معاملے میں تمام لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ ایک غلط پیمانہ (yardstick) سے سماج کو نا پتے ہیں۔ میں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دنیا کو بنانے والے نے اس دنیا کوٹنگ گراؤنڈ کے طور پر بنایا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی دی گئی ہے۔ ہر آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی آزادی کو چاہے تو صحیح طور پر استعمال کرے اور چاہے تو غلط طور پر استعمال کرے۔ یہ صورت حال اس بات کو ناممکن بنا دیتی ہے کہ یہاں کبھی آئیڈیل معنوں میں پر امن سماج بن سکے۔ کیوں کہ چند آدمی بھی اگر اپنی آزادی کو غلط استعمال کریں تو وہ سماج کے پر امن ماحول کو خراب کر سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں صحیح بات یہ ہے کہ کسی سماج کو آئیڈیل پیمانے سے نہ نا پا جائے بلکہ اس کو پریکٹیکل پیمانے سے نا پا جائے ۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ انسانی سماج کو آئیڈیل پیمانے سے ناپتے ہیں۔ اس لیے وہ فوراً منفی رائے بنا لیتے ہیں۔
صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ سماج کو پریکٹیکل پیمانے سے ناپا جائے ۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت سے وہ سماج جن کو آپ غیر پر امن سماج مانتے ہیں وہ سب پر امن سماج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً ہندوستان، امریکہ، اور یورپ کے اکثر ممالک۔ پریکٹیکل پیمانے کے اعتبار سے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues