Al-Risala · August 2006 · page 32

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳۲

یہ سارے ملک پر امن ملک کہے جاسکتے ہیں۔ لیکن آئیڈیل پیمانے سے ناپنے کی وجہ سے سارے لوگ ان ملکوں کو غیر پر امن ممالک کہتے ہیں۔

احمد بھائی نے سوال کیا کہ دعوت ورک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ دعوت ورک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس کو سیاسی مسائل اور قومی مسائل کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر قومی شکایتوں میں جیتے ہیں۔ وہ سیاسی محرومی کے احساس میں مبتلا ہیں۔ مسلمانوں کی یہی نفسیات دعوت ورک میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس منفی نفسیات کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ مسلمان دوسری قوموں کو ”غیر قوم‘‘ سمجھنے لگے ہیں۔ وہ ان کو اپنے حریف یا دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس بنا پر مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ حالاں کہ دوسری قوموں کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ ہی دعوت ورک کا اصل سرمایہ ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، خود غیر مسلموں کی طرف سے دعوت ورک کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ بظاہر اگر کوئی رکاوٹ نظر آتی ہے تو وہ صرف اس لیے ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان غیر مسلموں کے بارے میں معتدل نفسیات سے خالی ہو گئے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلمان انھیں غیر مسلم قوموں سے بزنس کے تعلقات رکھتے ہیں۔ وہ انھیں کے دفتروں میں جاب کرتے ہیں۔ اس طرح ایسا ہو رہا ہے کہ غیر مسلموں کے پاس مادی مفاد کے جو مواقع ہیں ان کو تو مسلمان خوب خوب حاصل کر رہے ہیں لیکن خود مسلمانوں کے پاس غیر مسلموں کو دینے کے لیے جو سچائی ہے اس کو غیر مسلموں تک پہنچانے کا کوئی جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔

اس معاملے کی ایک انتہائی مجرمانہ صورت یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان امریکا اور یورپ سے نفرت کرتے ہیں۔ امریکا اور یورپ کا نام لیتے ہی وہ اس کے خلاف نفرت کی بولی بولنے لگتے ہیں۔ لیکن یہی مسلمان پہلا موقع پاتے ہی اپنے بیٹے اور بیٹی کو امریکا اور یورپ بھیج دیتے ہیں۔ تاکہ وہ وہاں رہ کر وہاں کے مادی فوائد حاصل کر سکیں۔ یہ تضاد بلا شبہ وہی چیز ہے جس کو اسلام میں منافقت

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page