Al-Risala · August 2006 · page 33

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳۳

کہا گیا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ یہ لوگ قرآن کی اس آیت کو پڑھ کر اس سے ڈرتے نہیں : إن المنافقين في الدرك الأسفل من النار۔ (النساء: ۱۲۵)

ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ غصہ ایک فطری چیز ہے۔ اصل یہ ہے کہ غصہ آنا بُرا نہیں ہے۔ بلکہ غصے کا بُری شکل اختیار کرنا بُرا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: وإذا مـــــا غضبوبہم یغفرون (الشوریٰ: ۳۷) اس سے معلوم ہوا کہ مومن کو بھی غصہ آتا ہے۔ لیکن مومن غصے کی آگ کو اندر ہی اندر ڈفیوز کر دیتا ہے۔

حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آتا تھا۔ چنانچہ روایات میں آپ کے بارے میں اس طرح کے الفاظ آتے ہیں: فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى احمرّت وجنتاه، اور أغضب كما تغضبون، وغیرہ۔

میں نے کہا کہ غصے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی ذات پر کوئی شخص تنقید کرے تو آپ غصہ ہو جائیں۔ اس قسم کا غصہ کبر کی علامت ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ ایسے غصے سے اپنے آپ کو بچائے۔ دوسری صورت ہے اصول کے معاملے میں غصہ آنا۔ ایسا غصہ جائز ہے، اور معتدل دائرے میں اس کا اظہار بھی جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو غصہ آتا تھا وہ اپنی ذات کے معاملے میں نہیں تھا۔ آپ کو صرف اُس وقت غصہ آتا تھا جب کہ آپ اصول کے معاملے میں کسی کو خلاف ورزی کرتے ہوئے پاتے تھے۔ آپ کا یہ غصہ اصلاح کے لیے ہوتا تھا، وہ کسی کی تحقیر کے لیے نہیں ہوتا تھا۔ ۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی صبح کو فجر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایک نشست ہوئی۔ اس میں کئی لوگ شریک ہوئے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ الرسالہ میں یہ بات آئی ہے کہ تزکیہ قلب سے مراد حقیقتاً تزکیہ ذہن ہے۔ تزکیہ کا عمل معروف معنوں میں مبنی بر قلب عمل نہیں ہے بلکہ وہ مبنی بر ذہن عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن اور حدیث میں تو اس سلسلے میں قلب کا لفظ آیا ہے پھر آپ اس کو ذہن سے کس طرح وابستہ کرتے ہیں۔

میں نے کہا کہ قرآن میں ایک طرف یہ آیت ہے کہ تبياناً لكل شيئ (النحل: ۸۹) دوسری

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page