Co-existence in Islam
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳۴
طرف یہ آیا ہے کہ: سنریہم آیاتنا فی الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (حم السجدہ: ۵۳) پہلی آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بوقت نزول، قرآن میں ہر بات کی تبیین ہو چکی ہے۔ جب کہ دوسری آیت بتاتی ہے کہ قرآن کی کچھ حقیقتوں کی تبیین بعد کے زمانے میں ہوگی۔ اس اصول کو سامنے رکھیے تو مذکورہ معاملے کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ قرآن انسانی زبان میں اترا ہے۔ قدیم زمانے میں دل کو فکر اور احساس کا مرکز مان لیا گیا تھا۔ دنیا کی تمام زبانوں میں یہ تصور اتنا رائج ہوا کہ وہ ادب کا لازمی جزو بن گیا۔ ایسی حالت میں مؤثر کلام وہی ہو سکتا تھا جو مروّجہ ادب کی زبان میں ہو۔ مثلاً انگریزی میں کہا جاتا ہے ہول ہرٹڈلی (whole heartily)۔ اس جملے کو اگر بدل کر ہول مائنڈلی (whole mindedly) کہا جائے تو ادبی اعتبار سے یہ جملہ غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام زبانوں میں ادبی اعتبار سے قدیم اسلوب ہی رائج ہے۔ اگر چہ خالص سائنسی اعتبار سے صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ قرآن اور حدیث میں بھی اسی پہلو کی رعایت کی گئی ہے۔
ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے مولانا محمد علی جوہر کو ایک خط لکھا تھا۔ اس خط کا خلاصہ یہ تھا کہ مولانا محمد علی چوں کہ انگریزی جانتے ہیں اس لیے انھیں غیر مسلموں کے انگریزی داں طبقے میں دعوت کا کام کرنا چاہیے تھا۔ میرے نزدیک یہ ایک سادہ لوحی کی بات تھی۔ دعوت کا کام کرنے کے لیے دعوتی شعور کی ضرورت ہے، صرف انگریزی دانی اس کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔ مولانا محمد علی کا ذہن سیاسی ذہن تھا۔ وہ جانتے ہی نہیں تھے کہ دعوت کیا ہے اور دعوت کے آداب کیا ہیں۔
میں نے کہا کہ جواہر لال نہرو نے اپنی آٹو بائیوگرافی میں لکھا ہے کہ محمد علی نے ایک بار مجھ سے کہا کہ آپ کلمہ پڑھ لیجئے۔ پھر جس طرح ہم لوگ دنیا میں ایک ساتھ ہیں مرنے کے بعد بھی جنت میں ایک ساتھ رہیں گے ۔ جواہر لال نہرو نے اس بات کا مذاق اُڑایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی تعلیم یافتہ آدمی اس قسم کی بات پر ایسا ہی رد عمل پیش کرے گا۔ دعوتی کلام وہ ہے جو مخاطب کے ذہن کو
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues