Co-existence in Islam
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳۵
ایڈریس کرنے والا ہو۔ مذکورہ قسم کا کلام سادہ لوحی کی مثال تو ہو سکتا ہے مگر وہ دعوتی شعور کی مثال نہیں۔ ایک صاحب کے توسط سے ماہ نامہ الفرقان (لکھنؤ) کا شمارہ مارچ ۲۰۰۶ دیکھنے کو ملا۔ اس میں ایک سبق آموز بات ملی جو یہاں قابلِ ذکر ہے۔ اس شمارے کا اداریہ (نگاہِ اولین) مسلمانوں کے خلاف مغرب کی جارحیت پر تھا۔ اور اس کا عنوان الطاف حسین حالی کے اس شعر سے لیا گیا تھا: اے خاصۂ خاصانِ رسل، وقتِ دعا ہے امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے پانچ صفحے کے اس مضمون میں کہا گیا تھا کہ ”۹/۱۱ کے حادثے پر صدر بش نے اپنے جوابی فوجی عزائم کے اظہار کے لیے کروسیڈ (crusade) کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ وہ لفظ تھا جو فلسطین میں مسلمانوں کے خلاف مسیحی یورپ کے دورِ وحشت کی جنگی مہمات کے اُس طویل سلسلے کو یاد دلاتا تھا جو صلیبی جنگوں کے نام سے معروف ہے…… اور اب ڈنمارک سے اٹھنے والے جس کارٹونی فتنے پر عالمِ اسلام اس وقت سراپا احتجاج ہے، اس کے مقابل میں پورے مغرب (بشمول امریکا) نے جس طرح ڈنمارک کے ساتھ بیک آواز یکجہتی کا اظہار کر کے اُسے سہارا دیا ہے کہ پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں۔ اس پر اگر گمان ایک انداز میں صلیبی مسیحیت کے لوٹ آنے اور ایک نئی کروسیڈ کا بگُل بجادیے جانے کا گذرنے لگے تو کیسے اِسے بیجا کہا جاسکے گا“۔ (صفحہ ۳)
الفرقان کے اس مضمون کو پڑھ کر قاری کے ذہن میں جو تاثر آتا ہے وہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں پر جو ”بُرا وقت“ آیا ہے اس کا اصل سبب مغربی قوموں کی سازش اور اُن کا ظلم ہے۔ دوسری طرف اسی الفرقان میں اس کے ایڈیٹر کی طرف سے ایک اور مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے: سفرِ حج سے واپسی پر۔
اس دوسرے مضمون کو پڑھ کر قاری کا جو تاثر بنتا ہے وہ پہلے تاثر سے یکسر مختلف ہے۔ دوسرا مضمون بتاتا ہے کہ رمی جمرات کے موقع پر جو سنگین حادثہ ہوا اس کا سبب خود مسلمان تھے۔ یہ مسلمانوں کی اپنی داخلی بد نظمی ہے جس کی بنا پر یہ سنگین حادثہ پیش آیا۔
الفرقان کے مدیرِ محترم اس حج میں موجود تھے۔ انھوں نے رَمِی جمرات کے اِس منظر کو دیکھا تھا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues