Co-existence in Islam
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳۶
جس میں تقریباً ڈھائی تین سو مسلمان شہید ہو گئے ۔ اس حادثے پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا تھا کہ ؎ ’’ دنیا کا وہ حصہ جسے مشرقی دنیا یا تیسری دنیا کہا جاتا ہے اس میں بسنے والوں کے مزاج سے قانون اور ضابطے کی پابندی ، جسے ڈسپلن کہا جاتا ہے ، عرصے سے مفقود ہے ۔ بدقسمتی سے اپنے دور انحطاط میں ہم مسلمانوں کا حال بھی اس پہلو سے کچھ مختلف نہیں رہا۔ ‘‘ (صفحہ ۲۸) پہلے اقتباس کے مطابق ، مسلمان خارجی ظلم کا شکار ہیں ۔ اس کے برعکس دوسرے اقتباس کے مطابق ، مسلمان اپنی داخلی اور مزاجی کمزوریوں کا نتیجہ بھگت رہے ہیں ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمان کیوں ذہنی انتشار میں مبتلا ہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ خود بھی ذہنی انتشار میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی وہ ذہنی انتشار میں مبتلا کر رہے ہیں ۔ ایسی حالت میں وہی ہو سکتا ہے جو کہ عملاً ہو رہا ہے۔ موجودہ حالت میں اصل ضرورت یہ ہے کہ داخلی اعتبار سے مسلمانوں کے اندر بے اصولی اور بد نظمی کا جو مزاج بن گیا ہے اس کی اصلاح کی جائے ۔ دوسروں کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف احتجاج کرنا کسی بھی درجے میں مسئلے کا حل نہیں۔
اس غلط مزاج نے مسلمانوں کے اندر ایک اور شدید تر برائی پیدا کر دی ہے اور وہ ہے دو عملی۔ بار بار ایسا ہو رہا ہے کہ مسلمان مغربی ملکوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں اٹھاتے ہیں ۔ اپنی تقریروں اور تحریروں میں پر جوش طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ مغربی دنیا اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہو گئی ہے۔ لیکن وقتی مظاہروں کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ یہ تمام مسلمان مغربی ملکوں کے ساتھ عملاً موافقت کر لیتے ہیں ۔ اور انھیں ملکوں میں بدستور آرام کے ساتھ رہنے لگتے ہیں ۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں کرتا کہ وہ ’’اسلام دشمن‘‘ ملکوں کو چھوڑ کر اپنے وطن واپس آ جائے ۔ مغربی ملکوں کی مصنوعات سے بائیکاٹ کا شور تو کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایسا نہیں کرتا کہ وہ مغربی ملکوں سے بائیکاٹ کا اعلان کر کے وہاں رہنا بسنا چھوڑ دے اور وہ اپنے عزیزوں کو وہاں آباد نہ کرے ، حتیٰ کہ خود الفرقان کے مذکورہ ادار یہ نگار بھی۔ یہ صورتِ حال بلاشبہہ نہایت سنگین ہے ، یہاں تک کہ مغربی ملکوں کی مفروضہ سازش سے بھی زیادہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues