Al-Risala · August 2006 · page 37

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳۷

11 مارچ ۲۰۰۶ کو صبح ۱۰ بجے حبیب بھائی کے قائم کردہ مرکز میں پروگرام تھا۔ چنانچہ میں وہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہنچا۔ یہ مرکز جبلی ہل میں حیدر آباد کے ایک اہم علاقے میں قائم ہے۔ یہاں الرسالہ کے قارئین اور الرسالہ مشن سے اتفاق کرنے والے لوگ بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ اس موقع پر میں نے ایک تفصیلی تقریر کی۔

اس خطاب میں سب سے پہلے میں نے یہ کہا کہ حیدر آباد میں جو لوگ الرسالہ مشن سے اتفاق کرنے والے ہیں ان سب کو حبیب بھائی کے مرکز سے جُڑ جانا چاہیے۔ اس مرکز کو پیس بنا کر دعوتی مہم کو چلانا چاہیے۔ یہاں آپ لوگوں کا ہفتے وار اجتماع ہونا چاہیے۔ جس میں دعوتی عمل کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت وہ تمام اسباب موجود ہیں جب کہ اس مرکز کو ایک عمومی مرکز بنایا جاسکے، اور یہاں سے نہ صرف حیدر آباد بلکہ بیرونی دنیا کو بھی دعوت کا نشانہ بنایا جا سکے ۔ پھر میں نے کہا کہ کچھ لوگ ہم کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کو غیر تنقیدی انداز میں اپنا مشن چلانا چاہیے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں میں کہوں گا کہ یہ لوگ ہمارے مشن کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ اصل یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس وقت دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو روایتی انداز میں سوچتے ہیں۔ ان کو اسلام سے جوڑے رکھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ ان کے سامنے پر جوش تقریر کی جائے یا فضائل کے قصے سنائے جائیں۔ یہ کام پہلے سے بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ مگر ہمارا نشانہ اصلاً وہ لوگ ہیں جو ما بعد سائنس افکار سے متاثر ہوئے ہیں اور اسلام کے بارے میں ان کا یقین متزلزل ہو گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے اسلام کو ان کی ری ڈسکوری بنائی جائے ۔ اس کام کے لیے روایتی اسلوب کار آمد نہیں ہو سکتا۔

میں نے کہا کہ تقریباً پچاس سال پہلے لاہور سے ڈاکٹر محمد رفیع الدین کی کتاب چھپی۔ اس کا نام تھا۔ قرآن اور علم جدید۔ اس کتاب کے دیباچے میں انھوں نے لکھا تھا کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اس کو انھوں نے ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) سے تعبیر کیا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے میں بہت سے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page