Al-Risala · August 2006 · page 38

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳۸

ایسے لوگ ہیں جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن اندر سے وہ اسلام میں اپنا یقین کھو چکے ہیں۔ یہ ایک نئے قسم کا ارتداد ہے جس کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کتاب کو پڑھ کر مولانا ابوالحسن علی ندوی نے ایک عربی مقالہ لکھا تھا جو اسی زمانے میں پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوا۔ اس کا نام یہ تھا: ردة ولا ابابکر لھا (ایک ارتداد ہے مگر اس کے لیے کوئی ابوبکر نہیں)۔ اس زمانے میں دوسرے کئی لوگوں نے بھی اس قسم کے مضامین شائع کیے تھے۔ لیکن میرے علم کے مطابق، نہ ڈاکٹر رفیع الدین نے، نہ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے، نہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اور نہ کسی دوسرے شخص نے اس ذہنی ارتداد کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ایسا لٹریچر تیار کیا جو وقت کے فکری مستوی کے مطابق، اس فتنے میں مبتلا لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کر سکے۔ مسلم دنیا میں غالباً میں پہلا شخص تھا جس نے خدا کی توفیق سے اس مسئلے کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا اور اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کی، اور پھر اس موضوع پر بہت سی کتابیں تیار کیں جو عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کے طور پر اردو اور انگریزی اور دوسری کئی زبانوں میں شائع ہوئیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ان کتابوں سے ہزاروں لوگوں کے لیے اسلام ان کی دوبارہ دریافت بنا۔ اسی بنا پر میری کتاب الاسلام يتحدى (God Arises) کو پڑھ کر ایک عرب شیخ نے اس کا ذیلی ٹائٹل یہ تجویز کیا تھا: مدخل علمی للإيمان (ایمان میں داخلے کا علمی دروازہ)

اس خطاب میں میں نے کئی اور باتیں کہیں جن کا تعلق ذاتی عمل سے تھا۔ آخر میں میں نے کہا کہ دعوتی عمل کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہم چیز دعا ہے۔ دعا ہی کے ذریعے دعوت کے عملی مراحل طے ہوتے ہیں۔ دعا ایک مکمل عمل ہے۔ دعا کے بغیر دعوت کا کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔ دعا ہر چیز کا بدل ہے۔

پروگرام کے بعد جماعت کے ساتھ ظہر کی نماز ہوئی۔ یہاں نماز کے بعد جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی ۔ ان میں سے ایک جناب حسن الدین احمد آئی اے ایس تھے۔ ان کی عمر اب ۸۳ سال ہو چکی ہے۔ میں نے کہا کہ اب تو آپ سروس سے رٹائر ہو چکے ہیں پھر آپ کی مصروفیات کیا رہتی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page