Al-Risala · August 2006 · page 39

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳۹

انھوں نے کہا کہ — میں ریٹائر ملازمت سے ہوا ہوں ، زندگی سے نہیں۔

نماز ظہر کے بعد سینٹر میں ایک نشست ہوئی جس میں شہر کی کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین شریک ہوئیں۔ مرد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ خواتین کی طرف سے یہ سوال آیا کہ آپ کا مشن کیا ہے اور اس میں خواتین کا رول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ہمارا مقصد اور انٹر نیشنل سینٹر فار پیس دونوں کا مقصد ایک ہے۔ وہ یہ کہ عالمی سطح پر امن اور انسانیت کا ماحول قائم کرنا تاکہ خدا کا پیغام معتدل حالات میں لوگوں تک پہنچایا جا سکے، اور وہ دنیا بنائی جا سکے جہاں لوگ ایک طرف خدا کے پرستار ہوں اور دوسری طرف انسانوں کے خیر خواہ۔ یہی ہماری سرگرمیوں کا نشانہ ہے۔

پھر میں نے کہا کہ خواتین کا مطالعہ عام طور پر پردہ اور حجاب کے عنوان سے کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس موضوع پر جو کتابیں لکھی جاتی ہیں ان کا نام بھی پردہ اور حجاب جیسا ہوتا ہے۔ مگر یہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے میں عورت کا ایک مثبت رول (positive role) ہے۔ میں نے اس بات کی وضاحت کے لیے ایک پوری کتاب لکھی ہے جو عورت، معمار انسانیت‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ وہ دوسواٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔

میری گفتگو جاری تھی کہ ایک صاحب نے درمیان میں ایک غیر متعلق (irrelevant) سوال کر دیا۔ یہ ایک مسلمان تاجر تھے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر جھگڑالو ہے۔ ایسی حالت میں وہ لوگوں کے درمیان امن کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہے۔ ان کا یہ سوال ایک غیر متعلق سوال تھا اور اسی کے ساتھ ایک اچانک اور غیر معقول مداخلت بھی۔ میں ایک بے حد اصول پسند آدمی ہوں۔ مجھے ذاتی طور پر کوئی بُرا کہے تو مجھ کو غصہ نہیں آتا۔ لیکن بے اصولی کی بات پر مجھے غصہ آجاتا ہے۔ چنانچہ مجھے سخت غصہ آگیا۔ میں نے سختی کے ساتھ کہا کہ آپ کو سوال کرنے سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ سوال کرنے کا طریقہ کیا ہے۔

سوال کے سلسلے میں پہلا کام چپ رہ کر اُس کے بارے میں سوچنا ہے۔ لوگ اکثر سوچے بغیر سوال کیا کرتے ہیں۔ جو سوال انھیں اپنے آپ سے کرنا چاہیے اس کو دوسروں سے کرنے لگتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page