Co-existence in Islam
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۴۰
اسی لیے ایک صحابی نے کہا: نُھیناعن کثرۃ السؤال وعن کثرۃ القیل والقال (ہم کو زیادہ سوال کرنے سے اور زیادہ قیل و قال کرنے سے منع کیا گیا ہے)
میرا انداز سخت تھا۔ چنانچہ مذکورہ مسلمان کافی غصہ ہو گئے۔ اگر چہ اس وقت وہ خاموش ہو گئے مگر ان کے چہرے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ بہت زیادہ غصے میں ہیں۔ پروگرام ختم ہوا تو میں فورا اٹھ گیا۔ اس کے بعد میرا ایک اور پروگرام تھا وہاں مجھے پہنچنا تھا۔ اس لیے میں تیزی کے ساتھ باہر آیا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا تا کہ آگے جا سکوں۔ بقیہ لوگ ابھی اندر تھے۔
حاضرین میں مولا نا محمد ذکوان ندوی موجود تھے۔ انھوں نے بعد کو بتایا کہ میرے جانے کے بعد مذکورہ مسلمان غصے کی حالت میں کافی بولنے لگے، اور مجھ کو زور زور سے بُرا بھلا کہنے لگے۔ الرسالہ کے قارئین کا حلقہ اور سی پی ایس ٹیم کے لوگ وہاں موجود تھے۔ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ مذکورہ مسلمان شدید غصے میں مجھے بُرا بھلا کہہ رہے ہیں اور شکایت کر رہے ہیں تو انھوں نے یک طرفہ طور پر اُن سے کہا کہ آپ بجا فرما رہے ہیں۔ یہ ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم لوگوں نے آپ کو سوال کرنے کا موقع نہیں دیا۔ ہم آپ سے معذرت چاہتے ہیں۔ آپ اپنا قیمتی وقت نکال کر یہاں آئے ہم کو اس کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔
اس کے بعد مذکورہ مسلمان بولتے ہوئے باہر نکل آئے۔ اُس وقت میں اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔ حافظ عبد الغفار صاحب کے بتانے پر میں گاڑی سے باہر آیا اور مذکورہ مسلمان سے کہا کہ اس معاملے میں ساری غلطی میری تھی آپ مجھے معاف فرمائیں۔ وہ اتنا زیادہ غصے میں تھے کہ وہ معاف کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ میں نے بہت زیادہ کہا یہاں تک کہ قریب تھا کہ میں ان کا پاؤں پکڑ لوں۔ آخر کار وہ نرم پڑے اور کہا کہ کوئی بات نہیں، ایسا تو کبھی ہو جاتا ہے۔ پھر میں ان کو لے کر قریب کی ایک جگہ پر باہر ہی بیٹھ گیا۔ اُس وقت بہت سے لوگ کھڑے ہو کر ساری باتیں سُن رہے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ نے جو سوال کیا تھا، موجودہ واقعہ گویا اسی کا ایک عملی جواب تھا۔ آپ کا سوال قرآن کی اس آیت کے بارے میں تھا: و کان الانسان اکثر شیء جدلاً ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues