Co-existence in Islam
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۴۱
(الکہف ۵۲) ان کا کہنا تھا کہ جب قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان فطری طور پر ہی جھگڑا لو واقع ہوا ہے۔ پھر وہ صبر کیسے کر سکتا ہے۔
میں نے کہا کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کے بارے میں مطلوب معیار یہ نہیں ہے کہ وہ غصہ یا جھگڑا نہ کرے ۔ بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ اپنی فطری ساخت کے مطابق، اس کے اندر غصے کے جذبات پیدا ہوں اور وہ جھگڑنے لگے۔ مگر وہ اس پر قائم نہ رہے۔ بلکہ اس کے بعد وہ توبہ کرے اور معافی مانگے۔ خدائی نقشے کے مطابق، اعلیٰ انسان وہ نہیں ہے جو دوسرے سے کوئی غلطی ہی نہ کرے۔ بلکہ اعلیٰ انسان وہ ہے جو غلطی کرے اور پھر غلطی کا اعتراف کر کے اس سے معافی مانگے۔ توبہ اور غلطی کا اعتراف خود بہت بڑی نیکی ہے۔ اس نیکی کو حاصل کرنے کے قابل آدمی اُسی وقت بن سکتا ہے جب کہ اس کے اندر غلطی کرنے کار رجحان ہو۔ اعتراف ہمیشہ احساس غلطی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ احساس غلطی نہیں تو اعتراف بھی نہیں۔
اس گفتگو کے وقت جو لوگ وہاں موجود تھے ان میں سے ایک مسٹر جوئنٹ راؤ پائل بھی تھے وہ ناندیڑ کے رہنے والے ہیں اور شروع ہی سے ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے اس پورے منظر کو دیکھا۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ الرسالہ میں ہم معافی اور یک طرفہ صبر اور اعتراف کے بارے میں بہت پڑھتے تھے لیکن سمجھتے تھے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ مگر آج اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ الرسالہ مشن اور سی پی ایس سے جڑے ہوئے کئی لوگ وہاں موجود تھے انھوں نے اس پورے واقعے کو دیکھا۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ اس پورے پروگرام کا خلاصہ یہی واقعہ تھا جو گویا ہمارے الرسالہ مشن کا پریکٹیکل نمونہ ہے۔ الرسالہ مشن کا خاص پہلو یہ ہے کہ منفی واقعے کو مثبت پہلو میں تبدیل کیا جائے۔ یہ واقعہ اس اعتبار سے اس حقیقت کا ایک عملی نمونہ تھا۔
حیدر آباد کے پروگرام کے بارے میں حبیب بھائی نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ہر اعتبار سے نہایت کامیاب تھا۔ انھوں نے کہا کہ جس مقصد کے لیے یہ پروگرام کیا گیا تھا وہ مقصد پورا ہوا۔ خاص طور پر مجھے ذاتی اعتبار سے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے بیٹے اور بہو جو اس سے پہلے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues