Al-Risala · August 2006 · page 42

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۴۲

اسلام سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے اب انہوں نے باقاعدہ نماز شروع کردی ہے۔ اور وہ انگریزی کتابیں مطالعے کے لیے لے گئے ہیں۔

حیدر آباد کے روزنامہ اخبار منصف“ (۱۱ مارچ ۲۰۰۶) میں ایک خبر اس عنوان کے تحت تھی: ” برطانوی باشندوں میں اسلام سے واقفیت کا رُجھان ۔ یہ خبر اسلامی دعوت کے امکان کو بتاتی ہے۔ منصف سے لے کر اس خبر کو یہاں نقل کیا جاتا ہے :

” ریاض۔ ۱۰/ مارچ ( ایجینسیز ) برطانوی باشندوں میں عربی زبان اور اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ پروفیسر لیسلی میک لاگن نے اپنے دورہ سعودی عرب کے اختتام پر بتایا کہ غیر مسلم دنیا مسلمانوں کے تعلق سے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کر رہی ہے۔ پروفیسر میک لاگن نے جنھوں نے ریاض اور جدہ میں عربی اور اسلامی تعلیمات پر لکچر دیے ہیں، عرب نیوز کو بتایا کہ برطانیہ کی ۱۲ یونیورسٹیڑ میں عربی زبان اور اسلامک اسٹڈیز کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا میں ۱۱ ستمبر کے بعد غیر مسلم دنیا میں اسلام سے متعلق واقفیت حاصل کرنے کی دلچسپی بڑھ گئی ہے، اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں عربی جاننے والوں کے لیے بڑھتے ہوئے روزگار کے مواقع کے پس منظر میں بھی برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں عربی جاننے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ۱۹۶۱ میں برطانیہ میں عربی سیکھنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ فی الحال عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے ۵۰ فی صد تعداد خواتین کی ہے۔ برطانوی پروفیسر نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ میڈیا آرگنائزیشن میں حتیٰ کہ برطانیہ کے دفتر خارجہ میں بھی عربی جاننے والوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ (صفحہ ۵) منصف کے اسی شمارے میں ایک اور خبر تھی، جس کا عنوان یہ تھا۔ ” اٹلی کے کارڈینل اسکولوں میں مسلم طلبا کو قرآن پڑھانے کے حامی“۔ مذکورہ خبر کے الفاظ یہ تھے : ” روم۔ ۱۰/ مارچ ( ایجینسیز ) اٹلی کے ایک سرکردہ عیسائی رہنما کارڈینل نے اٹلی کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page