Al-Risala · August 2006 · page 43

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۴۳

سرکاری اسکولوں میں قرآن حکیم کے درس و تدریس کی حمایت کی ہے۔ کارڈینل کی یہ اجازت عالم اسلام کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ویٹیکن کی خواہش کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔ عیسائی رہنما نے کہا کہ اطالوی مسلم تنظیموں کی اس تجویز سے وہ اتفاق کرتے ہیں جس میں مسلم طلباء کو سرکاری اسکولوں میں قرآن حکیم کی تعلیم دینے کی بات کہی گئی ہے۔ (صفحہ ۵) یہ دونوں خبریں منصف کے ایک ہی شمارے میں تھیں۔ مغربی دنیا میں، بشمول ڈنمارک، ہر دن اس طرح کی سیکڑوں خبریں وجود میں آتی ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس قسم کی مثبت خبروں کو نمایاں طور پر مسلم اخباروں میں چھاپا جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ مغربی ملکوں کے بارے میں مسلمانوں کے منفی جذبات ختم ہوں گے اور دونوں کے درمیان وہ معتدل فضا قائم ہو جائے گی جو دعوت الی اللہ کے لیے ضروری ہے۔ مسلمانوں کے اوپر سب سے بڑا فرض دعوت الی اللہ ہے۔ مگر مسلمانوں کے منفی ذہن کی بنا پر یہ کام عملاً تقریباً بیک گیا ہے۔

۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی سہ پہر کو ہم لوگ ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ حیدر آباد کے ایئر پورٹ پر پہنچے تو یہاں کافی بھیڑ نظر آئی۔ حیدر آباد کے لیے میرا پہلا ہوائی سفر جنوری ۱۹۸۳ میں ہوا تھا۔ اس وقت کے مقابلے میں آج حیدر آباد ایئر پورٹ پر بہت زیادہ بھیڑ دکھائی دی۔ پچھلے برسوں میں حیدر آباد نے کاروباری اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت حاصل کرلی ہے۔ اس بنا پر یہاں ہوائی جہاز کی آمد و رفت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ لیکن جس نسبت سے ہوائی سفر بڑھا ہے اُس نسبت سے ایر پورٹ کی توسیع نہیں ہوئی ہے۔ معلوم ہوا کہ حکومت ایک نیا ہوائی اڈہ بنانا چاہتی ہے۔ جو بہت بڑا ہوگا اور وہ انریشنل معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔

واپسی کا یہ سفر ایرکن کی فلائٹ کے ذریعے ہوا۔ جہاز میں مطالعے کے لیے ویکلی اخبار تہلکہ (Tehelka) کا شمارہ ۱۱ مارچ ۲۰۰۶ موجود تھا۔ اخبار میں ایک رپورٹ اِس عنوان کے تحت چھپی تھی قتل کی آزادی: Freedom to Kill یہ رپورٹ نئی دہلی کے مسٹر مہیش کمار کے قلم سے تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اظہار خیال

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page