Al-Risala · August 2006 · page 44

Co-existence in Islam

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۴۴

کی آزادی کا مطلب حد کو پار کرنا اور صحافتی ضابطے کو توڑنا نہیں ہے۔ کارٹون کے خلاف احتجاج کرنا واضح طور پر ایک فطری ردّعمل ہے۔ لیکن احتجاج کو مہذب انداز میں ہونا چاہیے، اور مسلمہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ نہ کہ لوگوں کی جائیدادوں کو نقصان پہنچا کر اور لوگوں کو خوف زدہ کر کے: Freedom of expression doesn't mean crossing limits and the code of Journalism. The protests against such cartoons is an obvious and automatic reaction. But the protests, too, should be in a civilised manner and as per the accepted terms of law, and not by damaging public property or by harassing the people. (p.2)

اکثر لوگ اس قسم کی باتیں لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک یہ الفاظ گرِیمر کے اعتبار سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہیں۔ ایسے لوگ جو ایک جوایک کاغذی خاکے پر مشتعل ہو جائیں ان سے یہ امید کرنا کہ جب وہ اپنے مشتعل جذبات کے ساتھ بھیڑ کی صورت میں سڑکوں پر آئیں گے تو وہ پرامن رہیں گے ، اس قسم کا نظریہ ایک ناممکن مفروضے پر قائم ہے۔ اسی ناممکن مفروضے پر تنقید کرتے ہوئے ایک فارسی شاعر نے کہا تھا :

در میان قعر دریا تخته بندم کرده بازمی گوئی که دامن تر مکن ہشیار باش اس ناممکن مفروضے کا تجربہ بار بار ہو چکا ہے۔ بار بار یہ واقعہ پیش آیا کہ مشتعل جذبات کے حامل لوگوں کو یہ کہہ کر جلوس کی اجازت دے دی جاتی ہے کہ تم لوگ پرُامن رہنا۔ مگر ایسے جلوس کبھی پرامن نہیں رہتے۔ ایسی حالت میں اس نا کام تجربے کو مزید دہرانا ایک ایسی نادانی ہے جس کی کوئی عقلی توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔

تہلکہ کے مذکورہ شمارے میں ایک مفصل رپورٹ بمبئی کے مدرسوں کے بارے میں تھی۔ رپورٹ کے مطابق ، بمبئی میں ان مدرسوں کی تعداد ۸۰ ہے۔ دو صفحے کی اس رپورٹ کا عنوان یہ تھا: Please leave us to our devices, they work fine اس رپورٹ میں محمد علی روڈ پر واقع ایک مدرسے کی تصویر تھی۔ اس میں تحفیظ القرآن کے ایک کلاس کا منظر دکھایا گیا تھا۔ تقریباً ۲۵ طلبا قرآن کے نسخے لے کر اس کو حفظ کر رہے ہیں۔ درمیان میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page