Co-existence in Islam
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۴۵
ایک تنومند استاد مخصوص انداز سے گاؤ تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ منہ میں پان ہے اور سر پر اونچی ٹوپی۔ اتنے میں ان کے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھ میں موبائل لے کر نہایت اطمینان کے ساتھ بات کرنے لگتے ہیں۔ تصویر کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : Wait and watch: a phone call interrupts classes. یہ زمانہ گویا موبائل انفجار (mobile explosion) کا زمانہ ہے۔ موبائل کا استعمال اتنا عام ہو گیا ہے کہ ہر مولوی اور غیر مولوی کے ہاتھ میں موبائل دکھائی دیتا ہے۔ موبائل بلاشبہ موجودہ زمانے کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کے بے شمار فائدے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ میں نے موبائل استعمال کرنے والوں میں سے کسی میں اس پر حقیقی شکر کا جذبہ نہیں پایا۔ موجودہ زمانے کا یہ عام مزاج ہے۔ نعمتوں کا استعمال، لیکن منعم کا اعتراف نہیں۔
۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی شام کو تاخیر کے ساتھ جہاز دہلی کے ائیر پورٹ پر اترا۔ ائیر پورٹ پر اترنے کے بعد بھی مزید تقریباً آدھ گھنٹہ تاخیر ہوئی۔ کیوں کہ جہازوں کی کثرت کی وجہ سے جہاز فوراً آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ تاخیر کا مسئلہ صرف بسوں اور ٹرینوں میں ہے لیکن اب تاخیر کا مسئلہ ہوائی جہازوں تک پہنچ چکا ہے۔ ترقی کے ہجوم کے درمیان عدم ترقی کا یہ ماحول صرف ہندوستان میں دیکھا جا سکتا ہے۔
آزادی سے پہلے ہمارے لیڈروں نے یہ سہانا خواب دیکھا تھا کہ آزادی کے بعد ہر طرف ترقی کا سیلاب جاری ہو جائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ میرے نزدیک اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ آزادی کے بعد ملک نے صحیح رخ پر اپنا سفر شروع نہیں کیا۔ آزادی کے بعد یہ ہوا کہ ملک کولونیل ایکسپریس سے نکل کر سوشلسٹ ایکسپریس میں بیٹھ گیا۔ عجیب بات ہے کہ سوشلسٹ نظریہ کمیونسٹ ملکوں میں ختم ہو گیا۔ لیکن ہندوستان میں وہ شان دار طور پر جاری رہا۔ میرے نزدیک سوشلسٹ طریقہ ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ سوشلسٹ طریقے کو اختیار کر کے کوئی ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues