Al-Risala · May 2012 · page 27

اصول پسندی

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۲۷

پالی ٹیکنیک کے طلبا کو پرنسپل سے شکایت ہو گئی۔ انھوں نے اپنے مطالبات کو لے کر پرنسپل کا گھیراؤ کیا۔ پرنسپل نے طلبا سے بہت ا کہ وہ اپنے روم میں واپس جائیں، لیکن طلبا وہاں سے ہٹتے نہیں تھے۔ آخر کار کسی نے پرنسپل صاحب کو مشورہ دیا کہ اے ایم خاں کو بلائیے، وہی اس مسئلے کو حل کریں گے۔ چناں چہ پرنسپل نے ایک آدمی بھیج کر عبد المحیط خاں کو بلایا۔ عبد المحیط خاں وہاں آئے۔ انھوں نے دیکھا کہ طلبا کا ہجوم پرنسپل کو گھیرے ہوئے ہے۔ اپنی عادت کے مطابق، انھوں نے طلبا کو زور سے ڈانٹا اور کہا کہ یہ کیا بدتمیزی ہے، تم لوگ یہاں سے ہٹو اور فوراً اپنے روم میں واپس جاؤ۔ اس کے بعد طلبا نے گھیراؤ ختم کر دیا اور خاموشی کے ساتھ اپنے روم میں واپس چلے گئے۔

یہ دو واقعات بتاتے ہیں کہ عبد المحیط خاں کا ریکارڈ طالب علمی کے زمانے میں اور سروس کے زمانے میں کیا تھا۔ وہ جہاں بھی رہے، ہمیشہ ایک اصول پسند انسان کی حیثیت سے رہے۔ ایک بار جب وہ فیض آباد کے پالی ٹیکنیک میں پرنسپل تھے، یوپی کے ایک سیاسی لیڈر نے اپنے خط کے ساتھ ایک نوجوان کو بھیجا اور اس کے داخلے کی سفارش کی، مگر وہ طالب علم ٹسٹ میں کوالیفائی (qualify) نہ کر سکا۔ چناں چہ عبد المحیط خاں نے اس کا داخلہ نہیں لیا۔ طالب علم نے واپس جا کر لیڈر صاحب سے شکایت کی۔ اس پر لیڈر صاحب غصہ ہو گئے اور عبد المحیط خاں کو ٹیلی فون پر دھمکی دی، مگر عبد المحیط خاں اپنے فیصلے پر قائم رہے اور انھوں نے طالب علم کا داخلہ نہیں لیا۔

اصول پسندی

برادرم عبد المحیط خان مجھ کو بہت زیادہ مانتے تھے۔ وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ میرے اوپر ان کو بہت زیادہ بھروسہ تھا۔ وہ خود اگر چہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے، لیکن جب میں کوئی بات کہتا تو اس کو وہ بلا بحث مان لیتے تھے۔ میرے بارے میں وہ اکثر کہتے تھے کہ میں دنیا میں سب سے زیادہ وحید بھائی کو مانتا ہوں ۔

لیکن اسی کے ساتھ وہ بہت زیادہ اصول پسند آدمی تھے۔ اصول کے معاملے میں وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی نہیں۔ مثلاً ان کی دو لڑکیاں تھیں، لیکن

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page