Al-Risala · May 2012 · page 28

اصول پسندی

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۲۸

اپنے سخت اصولوں کی بنا پر انھوں نے ان لڑکیوں کو اسکول میں داخل نہیں کیا۔ ان کی لڑکیوں نے ابتدا میں گھر پر کچھ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد پرائیویٹ امتحان دے کر انھوں نے اپنی تعلیم پوری کی۔ ان کی اصول پسندی کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک بار میں دہلی سے ان کی پالی ٹیکنیک (گونڈہ) گیا۔ یہاں وہ پرنسپل تھے۔ کالج کی لائبریری میں بہت سی کتابیں تھیں ۔ ان میں سے ایک انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کا مکمل سیٹ تھا۔ چند روزہ قیام کے دوران میں برٹانیکا کو برابر پڑھتا رہا۔ جب میں آنے لگا تو میں نے برادرم عبد المحیط خاں سے کہا کہ یہ انسائیکلو پیڈیا میرے بہت کام کی ہے۔ یہاں کوئی اس کا قدرداں نہیں۔ میں اس کو اپنے ساتھ دہلی لے جاتا ہوں اور مطالعے کے بعد میں اُس کو واپس کردوں گا۔ مگر اپنی اصول پسندی کی بنا پر انھوں نے مجھے اس کی اجازت نہ دی۔ انھوں نے کہا کہ کالج کے قاعدے کے مطابق، آپ یہاں رہ کر انسائیکلو پیڈیا سے استفادہ کرسکتے ہیں، لیکن انسائیکلو پیڈیا کو اپنے گھر لے جانا، لائبریری کے قواعد کے خلاف ہوگا۔

برادرم عبدالمحیط خاں سختی کے ساتھ اپنے اصولوں کے پابند تھے۔ وہ کسی کی بے جارعایت نہیں کرتے تھے۔ اصول کے معاملے میں وہ کبھی کسی سے سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر ڈپارٹمنٹ کے کئی لوگوں کو اُن سے شکایت ہوتی تھی، مگر انھوں نے کبھی کسی کی شکایت کی پروا نہیں کی۔ وہ کسی کو خوش کرنے کے لیے اپنے اصول سے ہٹنے پر تیار نہیں ہوتے تھے۔

میں نے اپنے ذاتی مزاج کی بنا پر کئی بار اُن سے ملاقات کے دوران اور خط کے ذریعے کہا کہ تم خود اپنی ذاتی زندگی میں اصول پر قائم رہو، لیکن دوسروں کے بارے میں اعراض (avoidance) کا طریقہ اختیار کرو، مگر انھوں نے اپنی شدید اصول پسندی کی بنا پر میرا یہ مشورہ نہیں مانا۔ عبدالمحیط خاں کو کئی معاملے میں اپنی اس اصول پسندی کی بھاری قیمت دینی پڑی ۔ اُن میں سے ایک یہ ہے کہ اُن کا تعلق یوپی گورنمنٹ کے محکمہ ٹیکنکل ایجوکیشن سے تھا۔ وہ اپنی سینئرٹی (seniority) کے اعتبار سے ڈائریکٹر کے عہدے کے مستحق ہو چکے تھے، لیکن آخر تک اُن کو ڈائریکٹر کا عہدہ نہیں دیا گیا۔ ان کو جوائنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہونا پڑا۔ عبدالمحیط خاں نے اس نقصان کو

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page