Al-Risala · May 2012 · page 29

خاندانی حالات

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۲۹

برداشت کیا، مگر وہ اپنے اصول سے کبھی نہیں ہٹے ۔

خاندانی حالات

عبد المحیط خاں انجینئر میرے چھوٹے بھائی تھے۔ وہ یکم اگست 1932 کو اعظم گڑھ (یوپی) میں پیدا ہوئے، اور 31 جنوری 2010 کو فیض آباد (یوپی) میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس نسبت سے یہاں کچھ باتیں درج کی جارہی ہیں۔

میرے مورثِ اعلیٰ ضیاء الدین خاں تھے۔ تقریباً 500 سال پہلے وہ افغانستان (سوات) کے علاقے سے ہندوستان آئے۔ ابتدا میں وہ جون پور (یوپی) کے ایک گاؤں میں ٹھہرے۔ بعد کو اُن کا خاندان اعظم گڑھ کے گاؤں بڑھیریا میں منتقل ہوگیا۔ دھیرے دھیرے ہمارے خاندان نے یہاں ایک بڑے زمیں دار کی حیثیت حاصل کرلی۔ زراعت کے علاوہ، یہاں ان لوگوں نے نیل کا ایک گودام قائم کیا۔ اس کے علاوہ، ہمارے خاندان کے کچھ افراد شہر اعظم گڑھ میں مقیم ہوگئے۔ میرے والد کا نام فرید الدین خاں تھا۔ ان کا انتقال غالباً 1931 میں ہوا۔ میری والدہ زیب النساء کا انتقال دہلی میں 8 اکتوبر 1985 کو ہوا۔ ہم لوگ 6 بھائی بہن تھے۔ ایک بہن کا انتقال بچپن میں ہو گیا۔ دوسری بہنیں یہ تھیں طاہرہ خانم (وفات: 1976) اور طیبہ خانم (وفات: 1956)۔ بھائیوں میں عبدالعزیز خاں کا انتقال 1988 میں ہوا۔ عبد المحیط خاں چھوٹے بھائی تھے۔ ان کا انتقال 2010 میں ہوا۔ بھائیوں اور بہنوں میں اب میں آخری شخص رہ گیا ہوں۔

ہمارا خاندان کافی وسیع خاندان ہے، لیکن پورے خاندان میں، میں واحد شخص تھا جس کی تعلیم عربی مدرسے میں ہوئی۔ میرے چچا صوفی عبدالمجید خاں مرحوم کو خیال ہوا کہ خاندان میں کم ازکم ایک شخص کا عالم ہونا ضروری ہے۔ چناں چہ انھوں نے خود اپنی ذمے داری پر مجھ کو عربی مدرسہ (مدرسہ الاصلاح، سرائے میر) میں داخل کیا۔ میری عالمیت کی تعلیم میں تمام تر میرے چچا صوفی عبدالمجید خاں کا حصہ ہے۔ (میری تعلیم کے بارے میں تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو’ دین و شریعت‘ باب’’ اسلامی تعلیم‘‘، صفحہ 151-73)۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page