دعوتی زندگی
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۰
بعد کے زمانے میں ہمارے گھر پر دونوں جوانوں کے لیے انگریزی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔ ایک، میرے بھائی عبدالمحیط خاں اور دوسرے اقبال احمد خاں سہیل (وفات: 1955) کے بیٹے یمین الاسلام خاں۔ اس تعلیمی انتظام کی حیثیت گویا ایک گھریلو ٹیوشن کی تھی۔ اس کے لیے بالترتیب دو صاحبان نے استاد کی خدمت انجام دی۔ ایک ماسٹر صدیق صاحب اور دوسرے ماسٹر یاسین صاحب۔ عبدالمحیط خاں اور یمین الاسلام خاں دونوں نے بعد کو انجینئرنگ کا کورس کیا۔ عبدالمحیط خاں نے بنارس ہندو یونیورسٹی میں، اور یمین الاسلام خاں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں۔
دعوتی زندگی
برادرَم عبدالمحیط خاں میرے دعوتی مشن میں پوری طرح میرے ساتھ تھے۔ وہ اپنی پوری زندگی ماہ نامہ الرسالہ کی ایجنسی چلاتے رہے۔ وہ ہر مہینے الرسالہ کے کچھ پرچے منگاتے تھے۔ ایک شمارہ وہ اپنے پاس رکھتے تھے اور بقیہ شمارے مفت تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ، وہ ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی اسلامی کتابیں برابر منگاتے رہتے تھے اور اُنھیں لوگوں کو مطالعے کے لیے دیتے تھے۔ انھوں نے اپنی سروس کے زمانے میں دو مکان بنائے تھے۔ ایک، فیض آباد میں اور دوسرا، علی گڑھ میں۔ بعد کو انھوں نے اپنا علی گڑھ کا مکان فروخت کر دیا۔ اس کی رقم سے 6 لاکھ روپے وہ میرے وراثتی حصے کے طور پر مجھ کو بھیجنا چاہتے تھے۔ میں نے منع کر دیا۔ انھوں نے اپنے اہل خانہ کو وصیت کردی کہ یہ رقم دوبارہ مجھے بھیجی جائے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بیٹی فہمیدہ خانم نے میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم سے ٹیلی فون پر یہ بات بتائی۔ ڈاکٹر فریدہ نے اُن سے کہا کہ میرے والد ذاتی طور پر اس رقم کو قبول نہیں کریں گے، اس لیے آپ چاہیں تو یہ رقم القرآن مشن (Al-Quran Mission) میں دے دیجیے، تاکہ اس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک قرآن کا ترجمہ پہنچایا جا سکے۔ چناں چہ یہ پوری رقم القرآن مشن (نئی دہلی) میں دے دی گئی۔
برادرم عبدالمحیط خاں ایک صالح کردار کے آدمی تھے۔ اسی کے ساتھ ان کے اندر دعوت کے کام کا گہرا جذبہ تھا۔ یہی جذبہ انھوں نے اپنے گھر والوں میں پیدا کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ان کی بیٹی