دعوتی زندگی
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۱
فہمیدہ خانم اُن کی وفات کے بعد مسلسل طور پر دعوت کا کام کر رہی ہیں۔ وہ ہمارے یہاں سے چھپا ہوا دعوتی لٹریچر برابر منگاتی ہیں، وہ خود بھی اس کو پڑھتی ہیں اور دوسروں کو مطالعے کے لیے دیتی ہیں۔ عبد المحیط خاں کو ہمارے دعوتی مشن سے بہت دلچسپی تھی۔ وہ اس سے مکمل اتفاق کرتے تھے۔ وہ اس کی توسیع واشاعت کے لیے برابر کوشش کرتے رہتے تھے۔ اس معاملے میں بھی انھوں نے کسی کی مخالفت کی پروا نہیں کی۔ وہ کھلے طور پر اور آخر وقت تک ہمارے دعوتی مشن کے حامی بنے رہے۔ میں نے اکتوبر 1976 میں دہلی سے ماہ نامہ الرسالہ جاری کیا۔ عبد المحیط خاں شروع ہی سے الرسالہ کا باقاعدہ مطالعہ کرنے لگے۔ مزید یہ کہ انھوں نے الرسالہ کی ایجنسی لے لی۔ وہ الرسالہ کو خود بھی پڑھتے اور دوسروں کو اسے پڑھنے کے لیے دیتے۔ اسی طرح اُن کے پاس میری تمام کتابیں موجود تھیں۔ وہ ان کتابوں کو مسلسل پڑھتے رہتے تھے اور لوگوں سے ان کے مضامین کا چرچا کرتے تھے۔ میرے مشن کے بارے میں ان کو کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا، حتی کہ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی واحد صحیح مشن ہے اور لوگوں کو اس مشن کا ساتھ دینا چاہئے۔ میری لکھی ہوئی تفسیر قرآن اردو، عربی، ہندی اور انگریزی میں چھپی ہے۔ اس کا نام’’ تذکیر القرآن‘‘ ہے۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں وہ روزانہ تذکیر القرآن پڑھتے رہتے تھے۔ اس کے نوٹس (notes) وہ برابر لکھتے رہتے تھے۔
میری عادت ہے کہ میں ہر ایک سے اس کے تجربات پوچھتا ہوں۔ عبد المحیط خاں سے جب میری ملاقات ہوتی تو میں ہمیشہ ان کے تجربات پوچھتا تھا۔ اُن کا ایک تجربہ میں نے اُنھیں کے لفظوں میں چھاپا تھا۔ یہ تجربہ میری کتاب ’’سبق آموز واقعات‘‘ میں شائع ہوا ہے، اُس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ غلطی میری 1954ء میں جب کہ میں بنارس ہندو یونی ورسٹی میں انجینئرنگ کا طالب علم تھا، ایک واقعہ پیش آیا جو کہ اب تک مجھے یاد ہے۔ میرے استاد ڈاکٹر پران ناتھ نے لاپلاس ٹرانسفارم (Laplace Transform) کو پڑھانا شروع کیا تو انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک دلچسپ کہانی ہے جو ہمارے موجودہ پرنسپل سے متعلق ہے۔ یہ پروفیسر ایم۔ سین۔ گپتا تھے جو اُس وقت بنارس ہندو یونی ورسٹی کے انجینئرنگ کالج کے