Al-Risala · May 2012 · page 32

دعوتی زندگی

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۲

پرنسپل تھے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ پروفیسر گپتا مزید تعلیم کے لیے گلاسگو یونیورسٹی گئے تھے اور وہاں سے انھوں نے ٹاپ کیا تھا۔ گلاسگو کا پروفیسر ایک روز بلیک بورڈ پر ایک الیکٹریکل پرابلم کو حل کر رہا تھا۔ اس درمیان میں ڈفرینشیل ایکویشن (differential equation) کا سوال آگیا۔ گلاسگو کے پروفیسر نے اس کو عام طریقے سے حل کیا، جس میں کافی وقت لگا اور سارا بلیک بورڈ بھر گیا۔ پروفیسر گپتا نے اس موقع پر کھڑے ہو کر کہا: میرا خیال ہے کہ یہاں لاپلاس ٹرانسفارم کو آپلائی کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ سوال بہت مختصر طریقے سے حل ہو جائے گا۔ پروفیسر نے اس تجویز پر عمل کیا تو صرف دو لائنوں میں سوال حل ہوگیا۔ اگر چہ دونوں طریقوں کا آخری جواب ایک ہی تھا، مگر پروفیسر نے کہا: جب مختصر طریقہ ہمارے پاس موجود ہے تو لمبے طریقے کو اختیار کرنا ہی سرے سے غلط ہے، اس نے بلیک بورڈ پر اپنے لکھے ہوئے حل کو مٹا دیا اور پروفیسر گپتا کے طریقے کو لکھتے ہوئے کہا: This is the only method اسی قسم کا ایک اور واقعہ 1964ء کا ہے۔ حکومت ہند کی وزارت تعلیم نے امریکی حکومت کے ایجوکیشن ڈویژن کے تعاون سے چندی گڑھ میں ’’سمر اسکول فار ٹیچرس‘‘ کا ایک پروگرام شروع کیا۔ اس میں ہندوستانی شخصیتوں کے علاوہ، تین امریکی پروفیسر آئے ہوئے تھے، اس وقت میں چندولی میں سینئر لکچر رتھا اور اسی حیثیت سے میں نے چندی گڑھ کے اس پروگرام میں شرکت کی تھی۔ یہ پہلا کورس تھا جو 15 جون سے 24 جولائی 1964ء تک ہوا۔

امریکی پروفیسر منچل نے ایک روز کلاس میں سوال کیا— تخلیقی لوگ کون ہوتے ہیں (Who are creatives)۔ مختلف لوگوں نے مختلف نام لیے۔ ایک شخص نے کہا پوئیٹ (شاعر) پروفیسر نے کہا، کیا (What)۔ پروفیسر منچل کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ بار بار ’روہاٹ‘ کہتے رہے اور ہمارے ساتھی بار بار ’پوئیٹ‘ دہراتے رہے۔ بالآخر انھوں نے اس کی اسپیلنگ بتائی: پی اوای ٹی (poet)۔ اب پروفیسر منچل سمجھ گئے کہ ہمارے ساتھی کی مراد شاعر سے ہے۔ مگر ہندوستانی اور امریکی تلفظ کے فرق کی وجہ سے وہ سمجھ نہیں پاتے تھے۔ کیوں کہ ہندوستانی تلفظ اس لفظ کا پوئیٹ ہے جب کہ امریکی تلفظ میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page