دعوتی زندگی
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۳
اس کو پاییٹ کہتے ہیں۔ اس کے بعد پروفیسر نے کہا:
You are right, I am wrong, because I am in your country. ’’آپ صحیح ہیں۔ میں ہی غلطی پر ہوں، کیوں کہ میں اس وقت آپ کے ملک میں ہوں‘۔ برادرم عبدالمحیط خاں نے بنارس ہندو یونی ورسٹی کے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ (Electrical Engineering) میں داخلہ لے کر بی ای (B.E) کیا تھا۔ اس کے بعد اسی یونی ورسٹی سے انھوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری لی۔ اس طرح انھوں نے سائنس کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے کبھی کسی کالج اور یونی ورسٹی میں داخلہ نہیں لیا، البتہ مجھے سائنس سے دلچسپی تھی۔ میں نے سائنس کے موضوع کو پرائیویٹ طور پر کتابوں کے مطالعہ (self study) کے ذریعے پڑھا۔ اس طرح مجھے نظری سائنس (theoretical science) سے کسی حد تک واقفیت ہو گئی تھی۔ لیکن پینکل اعتبار سے میں نے اس موضوع پر کوئی تربیت حاصل نہیں کی تھی۔
اس پہلو سے مجھے برادرم عبدالمحیط خاں سے کافی مدد ملی۔ میں ان کے یہاں اُس وقت جاتا تھا، جب کہ وہ پالیٹکنیک (Technical College) کے پرنسپل تھے۔ میں ان سے سائنس کے موضوع پر بات کرتا تھا۔ پھر وہ مجھے اپنے کالج کی لیب (laboratory) میں لے جا کر اُس کا عملی مشاہدہ کراتے تھے۔ مثال کے طور پر میں نے فریڈے (Michael Faraday) وغیرہ کو پڑھا تھا۔ اس مطالعہ سے میں نے جانا تھا کہ نظریاتی طور پر بجلی کیا ہے۔ نظریاتی طور پر بجلی الیکٹران کے بہاؤ کا نام ہے: Electricity means flow of electrons. برادرم عبدالمحیط خاں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی۔ وہ مجھ کو اپنی کالج کی لیب (laboratory) میں لے گئے۔ وہاں انھوں نے مجھ کو ڈائینمو (dynamo) دکھایا۔ انھوں نے مجھے عملی طور پر بتایا کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ اگر ڈائینمو کے اندر میگنیٹک فیلڈ (magnetic field) اور موشن (motion) کو یکجا کیا جائے تو اس سے قانون فطرت کے مطابق، وہاں بجلی پیدا ہو جائے گی۔ اور اگر ڈائینمو میں میگنیٹک فیلڈ کے ساتھ الیکٹرسٹی کو یکجا کیا جائے تو وہاں موشن (motion) پیدا ہو جائے گا۔