Al-Risala · May 2012 · page 34

دعوتی زندگی

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۴

پہلے قانون کے ذریعہ پاور ہاؤس بنتا ہے اور دوسرے قانون کے ذریعہ مشین متحرک ہوتی ہے۔ انسانی ہمدردی برادرم عبدالمحیط خاں صرف ایک انجینئر نہ تھے، بلکہ اسی کے ساتھ ان کے اندر انسانی ہمدردی کا جذبہ بھی بہت زیادہ تھا۔ وہ لوگوں کی بھلائی کے لیے بہت سوچتے تھے۔ اسی کے ساتھ وہ بقدراستطاعت اس پر عمل بھی کرتے تھے۔

ایک بار انھوں نے بہت درد کے ساتھ کہا۔ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔ اس جملہ سے ان کا مطلب یہ تھا کہ انسان کو موجودہ دنیا میں زندگی کا موقع صرف ایک بار ملا ہے۔ ایک محدود مدت کے بعد وہ اس دنیا سے چلا جائے گا۔ عقل مند انسان وہ ہے جو اس محدود مدت کو اعلی مقصد کے لیے استعمال کرے۔ اگر اس نے اعلی مقصد کے سوا کسی اور کام میں اپنی عمر گزاردی تو اس کو دوبارہ یہ موقع ملنے والا نہیں۔ ان کا یہ قول کہ ’’زندگی صرف ایک بار ملتی ہے‘‘ کسی محدود معنی میں نہ تھا۔ وہ دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں تھا۔ ان کو افسوس ہوتا تھا کہ دنیا میں اکثر لوگ صحیح پلاننگ نہ کرنے کی وجہ سے کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔ ہر آدمی کا کیس کم تر استعمال کا کیس (A case of under-utilization) بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت کی نسبت سے ہے۔ ہمارے والد فرید الدین خاں یہ کہا کرتے تھے کہ ’’خدا کو منہ دکھانا ہے‘‘۔ برادرم عبدالمحیط خاں کو یہ فکر رہتی تھی کہ لوگ آخرت کے لحاظ سے تیاری نہیں کرتے، پھر اُس وقت ان کا کیا حال ہو گا جب وہ موت کے بعد خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے ۔ برادرم عبدالمحیط خاں کی لڑکی فہمیدہ خانم نے بتایا کہ بعد کے زمانے میں ہم لوگوں سے وہ اکثر آخرت کی بات کرتے تھے۔ ان کا اپنا یہ حال تھا کہ وہ خدا کے خوف سے کانپتے رہتے تھے۔ تعمیری ذہن میرے مشن کا ایک حصہ وہ ہے جو مسلمانوں کی ملی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس معاملے میں لکھنے اور بولنے والوں کا طریقہ عام طور پر یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی مظلومی کو بیان کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان، امتیاز (discrimination) کا شکار ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page