دعوتی زندگی
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۵
مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ میں اس نظریے کو صدق غلط سمجھتا ہوں۔ اس نظریے کے خلاف لکھنے کا کام میں نے لکھنؤ کے زمانہ قیام (1963-1966) میں شروع کیا تھا۔ اُس زمانے میں، میں لکھنؤ کے ہفت روزہ ”ندائے ملت‘ میں اس قسم کے تعمیری مضامین شائع کرتا تھا۔ اس کے بعد 1967 میں مجھے ”الجمعية ویکلی“ (دہلی) کا ایڈیٹر بنایا گیا۔ اب الجمعیۃ ویکلی میں میرے اس قسم کے تعمیری مضامین چھپنے لگے۔ اس کے بعد 1976 میں میں نے ماہ نامہ ”الرسالہ‘ نئی دہلی سے جاری کیا۔ اُس وقت سے اب تک الرسالہ میں میرے اس قسم کے تعمیری مضامین چھپ رہے ہیں۔ میں اپنے اسلوب کے مطابق، اس موضوع کو واقعات کی زبان میں لکھتارہا ہوں ۔ اس سلسلے میں قدیم وجدید تاریخ کے سبق آموز واقعات، میں نے بڑی تعداد میں شائع کئے ہیں۔ اس واقعاتی اسلوب نے کثیر تعداد میں لوگوں کو زندگی کا نیا حوصلہ دیا ہے۔
عبد المحیط خاں کی زندگی اس معاملے میں ایک عملی مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُن کو عام طور پر اے ایم خاں کہا جاتا تھا۔ اپنے حلقے میں وہ اسی نام سے مشہور تھے۔ اپنے مزاج کے مطابق، انھوں نے کبھی کسی سے رعایت نہیں چاہی اور نہ اُنھیں کبھی کسی سے کوئی فیور (favour) ملا۔ انھوں نے اپنی محنت اور اپنی دیانت داری سے اپنے لیے ممتاز جگہ بنائی۔ میں نے الجمعيۃ ویکلی اور ماہ نامہ الرسالہ میں اُن کے بارے میں چند صفحات شائع کیے تھے، وہ یہاں کسی تبدیلی کے بغیر نقل کئے جاتے ہیں۔ استحقاق پیدا کیجئے مسٹر عبدالمحیط خاں ہائر سکینڈری کے امتحان میں اچھے نمبر سے پاس ہوئے تھے۔ مگر کسی وجہ سے وہ بروقت آگے داخلہ نہ لے سکے، یہاں تک کہ اکتوبر کا مہینہ آگیا۔ اب بظاہر کہیں داخلہ ملنے کی صورت نہ تھی۔ تاہم تعلیم کا شوق ان کو ہندو سائنس کالج کے پرنسپل کے دفتر میں لے گیا۔ ”جناب، میں بی ایس سی میں داخلہ لینا چاہتا ہوں“۔ انھوں نے ہندو پرنسپل سے کہا۔ ”یہ اکتوبر کا مہینہ ہے، داخلے بند ہو چکے ہیں، اب کیسے تمھارا داخلہ ہوگا؟ “ ”بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ داخلہ لے لیں، ورنہ میرا پورا سال بے کار ہو جائے گا۔ “