Al-Risala · May 2012 · page 36

دعوتی زندگی

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۶

”ہمارے یہاں تمام سیٹیں بھر چکی ہیں، اب مزید داخلے کی کوئی گنجائش نہیں‘۔

پرنسپل اتنی بے رخی برت رہا تھا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ہرگز داخلہ نہیں لے گا اور اب اگلا جملہ طالب علم کو شاید یہ سننا پڑے گا کہ ”کمرے سے نکل جاؤ“۔ مگر طالب علم کے اصرار پر پرنسپل نے بددلی سے پوچھا ”تمھارے مارکس (marks) کتنے ہیں‘۔ پرنسپل کا خیال تھا کہ اس کے نمبر یقیناً بہت کم ہوں گے، اسی لیے اس کو کہیں داخلہ نہیں ملا۔ چناں چہ طالب علم جب اپنے خراب نتیجہ(result) کو بتائے گا تو اس کی درخواست کورد کرنے کے لیے معقول وجہ ہاتھ آجائے گی، مگر طالب علم کا جواب اس کی امید کے خلاف تھا۔ طالب علم نے کہا جناب 85 فی صد(Sir, eighty five percent)۔ اس جملہ نے پرنسپل پر جادو کا کام کیا۔ فوراُ اس کا موڈ بدل گیا۔ اس نے کہا ”بیٹھو، بیٹھو“۔ اس کے بعد پرنسپل نے طالب علم کے کاغذات دیکھے اور جب کاغذات نے تصدیق کر دی کہ واقعی وہ پچاسی فی صد نمبروں سے پاس ہوا ہے تو اسی وقت پرنسپل نے پچھلی تاریخ میں درخواست لکھوائی۔ اس نے عبدالمحیط خاں کو نہ صرف تاخیر کے باوجود اپنے کالج میں داخل کر لیا، بلکہ کوشش کرکے ان کو وظیفہ (scholarship) بھی دلوایا۔

یہی طالب علم اگر اس حالت میں پرنسپل کے پاس جاتا کہ وہ تھرڈ کلاس پاس ہوتا اور پرنسپل اس کا داخلہ نہ لیتا تو طالب علم کا تاثر کیا ہوتا۔ وہ اس طرح لوٹتا کہ اس کے دل میں نفرت اور شکایت بھری ہوتی۔ وہ لوگوں سے کہتا کہ یہ سب تعصب کی وجہ سے ہوا ہے، ورنہ میرا داخلہ ضرور ہونا چاہیے تھا۔ داخلہ نہ ملنے کی وجہ اس کا خراب نتیجہ ہوتا، مگر اس کا ذمہ دار وہ ہندو کالج کو قرار دیتا—ماحول کا رد عمل اکثر خود ہماری حالت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مگر ہم اس کو ماحول کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، تاکہ اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ ثابت کر سکیں۔

اگر آدمی نے خود اپنی طرف سے کوتاہی نہ کی ہو، اگر زندگی میں وہ اُن تیاریوں کے ساتھ داخل ہوا ہو جو زمانے نے مقرر کی ہیں تو دنیا اس کو جگہ دینے پر مجبور ہوگی۔ وہ ہر ماحول میں اپنا مقام پیدا کرلے گا، وہ ہر بازار سے اپنی پوری قیمت وصول کرے گا۔ مزید یہ کہ ایسی حالت میں اس کے اندر اعلیٰ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page