دعوتی زندگی
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۷
اخلاقیات کی پرورش ہوگی۔ وہ اپنے تجربات سے جُرأت، اعتماد، عالی حوصلگی، شرافت، دوسروں کا اعتراف، حقیقت پسندی اور ہر ایک سے صحیح انسانی تعلق کا سبق سیکھے گا۔ وہ شکایت کی نفسیات سے بلند ہو کر سوچے گا۔ ماحول اس کو تسلیم کرے گا، اس لیے وہ خود بھی ماحول کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر اس نے اپنے آپ کو اہل (competent) ثابت کرنے میں کوتاہی کی ہو۔ اگر وہ وقت کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔ اگر وہ کم تر لیاقت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوا ہو تو لازماً وہ دنیا کے اندر اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے گا۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر جو اخلاقیات پیدا ہوں گی، وہ بلاشبہ پست اخلاقیات ہوں گی۔ وہ شکایت، جھنجھلاہٹ، غصہ، حتیٰ کہ مجرمانہ ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ جب آدمی ناکام ہوتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی نفسیات ابھرتی ہیں۔ اگر چہ آدمی کی ناکامی کی وجہ ہمیشہ اپنی کمزوری ہوتی ہے، مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قصور وار ٹھہرائے۔ وہ ہمیشہ اپنی ناکامیوں کے لیے دوسروں کو مجرم ٹھہراتا ہے۔ وہ صورتِ حال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے سے قاصر رہتا ہے۔
کم تر تیاری آدمی کو بیک وقت دو قسم کے نقصانات کا تحفہ دیتی ہے—اپنے لیے بے جا طور پر ناکامی کا احساس، اور دوسروں کے بارے میں بے جا طور پر شکایت۔
پتھر ہر ایک کے لیے سخت ہے، البتہ وہ اس آدمی کے لیے نرم ہو جاتا ہے جو اس کو توڑنے کا اوزار رکھتا ہو۔ یہی صورت ہر معاملے میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوئے ہوں تو آپ اپنی واقعی حیثیت سے بھی زیادہ حق اپنے لیے وصول کر سکتے ہیں۔ ”وقت“ گزرنے کے بعد بھی ایک اجنبی کالج میں آپ کا داخلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کو اپنا واقعی حق بھی نہیں مل سکتا۔ گیس نیچے نہیں سماتی تو اوپر اٹھ کر وہ اپنے لیے جگہ حاصل کرتی ہے۔ پانی کو اونچائی آگے بڑھنے نہیں دیتی تو وہ نشیب کی طرف سے اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ درخت سطح کے اوپر قائم نہیں ہو سکتا تو وہ زمین پھاڑ کر اس سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کر لیتا ہے۔ یہ طریقہ جو غیر انسانی دنیا میں خدا