Al-Risala · May 2012 · page 38

دعوتی زندگی

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۸

نے اپنے براہ راست انتظام کے تحت قائم کر رکھا ہے، وہی طریقہ انسان کو بھی اپنے حالات کے اعتبار سے اختیار کرنا ہے۔

ہر آدمی جو دنیا میں اپنے آپ کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہو، اس کو سب سے پہلے اپنے اندر کامیابی کا استحقاق پیدا کرنا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانے اور پھر اپنے حالات کو سمجھے۔ وہ اپنی قوتوں کو صحیح ڈھنگ سے منظم کرے۔ جب وہ ماحول کے اندر داخل ہو تو اس طرح داخل ہو کہ اس کے مقابلے میں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے وہ اپنے آپ کو پوری طرح تیار کر چکا ہو۔ اس نے حالات سے اپنی اہمیت منوانے کے لیے ضروری سامان کر لیا ہو۔ اگر یہ سب ہو جائے تو اس کے بعد آپ کے عمل کا جو دوسرا لازمی نتیجہ سامنے آئے گا، وہ وہی ہوگا جس کا نام ہماری زبان میں کامیابی ہے۔ (الجمعیتہ ویکلی، دہلی 24 نومبر 1967)۔

ایک واقعہ

مسٹر عبد المحیط خاں نے 28 جون 1995 کی ملاقات میں اپنی سروس کے زمانے کے کئی سبق آموز تجربات بتائے۔ ان میں سے ایک تجربہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

مسٹر اے ایم خاں نے 1955 میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ای (B.E) کی ڈگری لی۔ 1963 میں چندولی (ضلع بنارس، یوپی) کے پرائیویٹ پالی ٹیکنیک میں ایک جگہ خالی ہوئی۔ یہ سینئر لکچرر کی جگہ تھی۔ اسی کے ساتھ کامیاب امیدوار کو الیکٹریکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ (head) کا عہدہ بھی سنبھالنا تھا۔

اس کا انٹرویو بنارس کے کمشنر جے بی ٹنڈن کی سرکاری رہائش گاہ پر تھا۔ کمشنر صاحب چندولی پالی ٹیکنیک میں بحیثیت عہدہ اس کی مینیجنگ کمیٹی کے صدر بھی ہوتے تھے۔ چناں چہ وہ بھی انٹرویو میں شریک تھے۔ انٹرویو بورڈ کے ایک پروفیسر رام سرن تھے۔ دوسرے رکن پروفیسر گیرولا تھے۔ پروفیسر گیرولا بنارس ہندو یونیورسٹی میں مسٹر خاں کے استاد رہ چکے تھے۔

پروفیسر رام سرن نے مسٹر خاں سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ ــــ کیا آپ جانتے ہیں کہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page