Al-Risala · May 2012 · page 39

Mr. Khan, you can go.

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۹

انسٹرو منٹ ٹرانسفارمر کیا ہوتا ہے:

Mr. Khan, do you know what is instrument transformer? مسٹر خان نے ابھی سوال کا جواب نہیں دیا تھا کہ پروفیسر گیر ولانے کمشنر ٹنڈن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جاب کے لیے سب سے بہتر امید وار ہیں۔ ان کے لیے انٹرویو دینے کا کوئی سوال نہیں: He is the best candidate for the job. There is no question for interview. اس کے بعد پروفیسر گیر ولانے کہا کہ ـــ مسٹر خان، آپ جا سکتے ہیں:

Mr. Khan, you can go.

پروفیسر سرن جنھوں نے سوال کیا تھا، وہ خاموش رہے۔ مسٹر خان اپنے کاغذات لے کر کمرہ سے باہر آگئے۔ ایک ہفتہ کے بعد ان کو حسب قاعده آپائنٹمنٹ لیٹر مل گیا۔ وہ چندولی پالی ٹیکنیک میں سینئر لکچرر مع ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ الیکٹریکل انجینئرنگ مقرر ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی ترقی ہوتی رہی، یہاں تک کہ وہ جوائنٹ ڈائرکٹر (ٹیکنکل ایجوکیشنل) کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ آج کل اکثر نوجوان یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ روز گار نہیں، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قابل روزگار افراد نہیں۔ مسٹر اے ایم خان کے ساتھ مذکورہ واقعہ اسی لیے پیش آیا کہ انھوں نے محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی ۔ وہ ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوئے، تعلیم کے دوران ان کا کردار نہایت عمدہ رہا۔ پروفیسر گیر ولا اور دوسرے متعلق لوگوں کے درمیان ان کی تصویر نہایت عمدہ بنی۔ اسی کی وہ قیمت تھی جو مذکورہ شان دار واقعہ کی صورت میں انھیں ملی۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر ادارہ اور ہر دفتر اچھے کارکن کو چاہتا ہے، کیوں کہ اس کے بغیر اس کا کام درست طور پر نہیں چل سکتا۔ کوئی بھی آدمی اپنا دشمن نہیں، اس لیے کوئی بھی آدمی اچھے کارکن کو نظر انداز کرنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھا اور قابل اعتماد کارکن دوسروں کی ضرورت ہے۔ آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیے ۔ اور پھر آپ کے لیے روز گار حاصل کرنا کچھ بھی مشکل نہ ہوگا۔ اس دنیا کا نظام دو طرفہ لین دین پر چل رہا ہے۔ یہاں شکایت اور احتجاج اور مطالبہ کی کوئی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page