Al-Risala · May 2012 · page 40

ایسی مثالیں بھی ہیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۰

قیمت نہیں۔ اس دنیا کا سادہ اصول یہ ہے کہ جتنا دینا اتنا پانا۔ اگر آپ روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو اپنے آپ کو دوسروں کے لیے مفید بنائیے۔ اپنے اندر وہ مہارت پیدا کیجئے جس کی دوسروں کو ضرورت ہے، اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کو روزگار تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد روزگار خود آپ کو تلاش کرے گا، حتیٰ کہ یہ حال ہو جائے گا کہ آپ آگے ہوں گے اور روزگار آپ کے پیچھے جب بھی آپ دنیا میں کوئی جگہ چاہیں اور دنیا والے آپ کو وہ جگہ دینے پر تیار نہ ہوں تو دوسروں کی شکایت نہ کیجئے بلکہ یہ یقین کر لیجئے کہ آپ کے اندر کوئی کمی ہے جس کی بنا پر آپ دوسروں کے لیے قابلِ قبول نہ ہو سکے، اور پھر اس کمی کو دور کرنے میں لگ جائیے ۔ اس کے بعد آپ کو دوسروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ برادرم عبد المحیط خاں کے بارے میں اُن کی زندگی میں، میں نے کئی تحریریں شائع کی تھیں۔ ان تحریروں میں ان کی زندگی کے وہ پہلو شامل ہوتے تھے جن میں عام لوگوں کے لیے سبق (lesson) ہے۔ اُنھیں تحریروں میں سے ایک تحریر وہ ہے جو انٹرویو کے انداز میں دہلی کے اخبار ’’الجمعیۃ ویکلی‘‘ کے شمارہ 15 ستمبر 1967 میں چھپی تھی۔ یہ انٹرویو پورا کا پورا ایک سبق آموز انٹرویو تھا۔ یہ انٹرویو اخبار میں حسبِ ذیل عنوان کے تحت چھپا تھا:

ایسی مثالیں بھی ہیں

اس مطبوعہ انٹرویو کو کسی تبدیلی کے بغیر یہاں نقل کیا جاتا ہے:

’’میرارکشا اب شہر کے باہر ایک صاف ستھری سڑک پر چل رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک انتہائی وسیع میدان میں نئی تعمیر شدہ عمارتوں کا ایک سلسلہ نظر آیا، جس کے سامنے ایک بورڈ پر لکھا ہوا تھا— ’’گورنمنٹ ٹکنکل انسٹی ٹیُوٹ‘‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ میں اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ گیا ہوں ۔ ’’پرنسپل صاحب کا بنگلہ کون سا ہے؟ ‘‘۔ میں نے قریب کھڑے ہوئے کچھ طلبا سے سوال کیا۔ ’’وہ سامنے جو عمارت ہے، وہی پرنسپل صاحب کا بنگلہ ہے۔ ‘‘ بیک وقت کئی لڑکے بول پڑے ۔ اب میرارکشا ایک خوب صورت مکان کے سامنے کھڑا تھا جس کا حلیہ بتاتا تھا کہ وہ جلد ہی بن کر تیار ہوا ہے۔ سامنے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page