Al-Risala · May 2012 · page 41

A. M. Khan, Principal

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۱

پلاسٹک کی کالی پلیٹ پر سفید حرفوں میں لکھا ہوا تھا :

A. M. Khan, Principal

اب مجھے پورا اطمینان ہو گیا کہ یہی اس شخص کی رہائش گاہ ہے، جس سے ملنے کے لیے میں اس وقت یہاں آیا ہوں۔ میں فوراً رکشے سے اتر گیا۔

میں نے کال بیل (call bell) کا بٹن دبایا اور جواب کے انتظار میں مکان کے باہر ٹہلنے لگا۔ سرکاری طور پر تعمیر شدہ رہائش گاہ ”کلاس ون آفیسر‘‘ کے شایانِ شان تھی۔ مگر میں نے دیکھا کہ اس کے رکھ رکھاؤ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ مکان کے چاروں طرف وسیع زمین سوکھی پڑی تھی۔ گملوں کی قطار اور السیشین(Alsatian) کا ہیبت ناک چہرہ بھی اس کی رونق بڑھانے کے لیے موجود نہیں تھا۔ موٹر گیرج تو بنا ہوا تھا، مگر وہ خالی تھا۔ چر اسیوں کی فوج بھی کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک لڑکے نے دروازہ کھولا ۔ اب میں ملاقات کے کمرہ میں تھا ۔ یہ کمرہ بھی بس سادگی کی تصویر تھا۔ نہ صوفہ سیٹ، نہ بیش قیمت قالین، نہ آرائش کے ساز و سامان۔ میرا پہلا تاثر یہ ہوا کہ مسٹر خان ’’آمدنی‘‘ کرنے کے بہترین مقام پر ہوتے ہوئے بھی صرف سرکاری تنخواہ پر قناعت کرتے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ انجینئرنگ کے ادارہ کا ایک پرنسپل اپنی تنخواہ کے علاوہ، بہت بڑی کمائی کر سکتا ہے۔ اگر مسٹر خان اس سنہرے موقع سے فائدہ اٹھاتے تو گھر کے اندر اور باہر کا یہ نقشہ نہ ہوتا۔

میں مسٹر خان سے پہلی بار اس وقت متاثر ہوا جب وہ ہمارے یہاں پالی ٹیکنیک میں لکچر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ ان کا خاص مضمون میتھمیٹکس اور الیکٹریکل انجینئرنگ تھا۔ اپنے مضمون سے انھیں اس طرح دل چسپی تھی جیسے کسی نو جوان کو فلم اور ناول سے دلچسپی ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ اپنے مضمون پر بے حد تیار تھے۔ اور اس طرح پڑھاتے تھے کہ ان کے ایک شاگرد کے الفاظ میں ’’بالکل گھول کر پلا دیتے تھے‘‘۔ پالی ٹیکنیک میں جن درجات کو انھوں نے پڑھایا تھا، ان کا نتیجہ سو فی صد کامیاب رہا۔ میں انھیں خیالات میں غرق تھا کہ اتنے میں پیچھے کا پردہ اٹھا اور مسٹر خان کمرہ میں داخل

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page