A. M. Khan, Principal
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۲
ہوئے۔ ایک انتہائی شریف انسان، ہنس مکھ چہرہ اور پر وقار شخصیت کے ساتھ میرے سامنے کھڑا تھا۔ ’’مسٹر خان‘‘ ابتدائی گفتگو کے بعد میں نے کہا’’ میں اس وقت آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ آپ اپنی زندگی کے کچھ تجربات مجھے بتائیں ۔ خاص طور پر وہ تجربات جو آپ کے پیشہ (profession) سے متعلق ہیں‘‘۔
’’میں کیا اور میرے تجربات کیا‘‘ مسٹر خان نے سادگی کے ساتھ جواب دیا۔
’’تجربات تو ہر شخص کے ہوتے ہیں اور آپ کے تجربات بھی یقیناً ہوں گے‘‘۔
’’ہاں، اس لحاظ سے میں بھی کچھ تجربات کا نام لے سکتا ہوں‘‘۔
ٹھیک ہے، آپ جس حیثیت سے بھی بتائیں، مجھے تو آپ کے تجربات معلوم کرنے ہیں۔ خاص طور پر وہ تجربات جو آپ کی ملازمت کی زندگی سے متعلق ہیں‘‘۔
’’اس سے آپ کی کیا مراد ہے، یعنی آپ کس قسم کے تجربات مجھ سے سننا چاہتے ہیں‘‘۔ ’’آپ مسلمان ہوتے ہوئے ایک اچھی سرکاری ملازمت میں ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے اس کا موقع ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں پہنچ سکیں اور پہنچنے کے بعد عزت کے ساتھ رہیں‘‘۔ میں نے سوال کو متعین کرتے ہوئے کہا۔ یہ سنتے ہی مسٹر خان کا موڈ بدل گیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے ان کی نازک رگ کو چھیڑ دیا ہے۔ ’’یقیناً‘‘ انھوں نے کہا۔ ’’میرے نزدیک یہ دونوں باتیں ممکن ہیں۔ اگر کوئی چیز ناممکن ہے تو وہ خود ہمارے اندر موجود ہے‘‘۔ ’’براہ کرم تفصیل سے بتائیے کہ آپ کا کیا مطلب ہے‘‘۔ میں نے کہا۔
’’آپ کو معلوم ہے کہ میری انجینئرنگ کی تعلیم ہندو یونیورسٹی میں ہوئی ہے۔ ‘‘ انھوں نے کہنا شروع کیا۔ ’’اس وقت سے لے کر اب تک میرا سابقہ ہمیشہ ہندوؤں سے رہا۔ حالاں کہ میں نے کبھی مصالحت یا خوشامد پسندی کے نظریہ کے تحت کوئی بات نہیں کی، اور نہ میں نے کبھی اپنی اسلامیت کو چھپایا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ مجھے کبھی کسی سے شکایت نہیں ہوئی۔ میں نے 1955ء میں بی ایس سی (انجینئرنگ) پاس کیا۔ اگرچہ میرا اسکنڈ کلاس آیا تھا، مگر جب میں نے اپنے ہندو اساتذہ سے تصدیق