A. M. Khan, Principal
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۳
(Testimonial) کے لیے کہا تو انھوں نے نہایت فراخ دلی کے ساتھ اپنی تحریریں مجھے عطا کیں۔ مثلاً الیکٹریکل کمیونی کیشن کے پروفیسر نے اپنی تصدیق میں میرا تعارف کراتے ہوئے لکھا: I am confident that Mr. A. M. Khan will prove his merit in any branch of his profession. ( مجھے پورا اعتماد ہے کہ مسٹر خان اپنے پیشہ کے کسی بھی کام میں اپنی اہلیت ثابت کریں گے ) سول انجینئرنگ کے ہندو ریڈر نے یہ بتاتے ہوئے کہ میں اپنے موجودہ مطالعہ کی بنیاد پر جونیر ڈگری یا ڈپلوما کلاسز کو آسانی سے لے سکتا ہوں، میرے بارے میں لکھا: ...and after some experience, any classes without limitation. ( اور کچھ تجربات کے بعد مسٹر خان بلا قید کوئی بھی کلاس لے سکتے ہیں )
”یہ الفاظ تو نہ صرف یہ کہ بے تعصبی کا ثبوت ہیں، بلکہ وہ اپنی حد سے بھی کچھ آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ “ میں نے اپنا تاثر ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ ”واقعی اگر آدمی لیاقت کا ثبوت دے تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا اسے تسلیم نہ کرے۔ “ ”جی ہاں،“ مسٹر خان نے کہا۔ ”مجھے لیاقت کا دعویٰ تو نہیں ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ میں اپنا کام محنت اور دیانت داری سے کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اب تک میں ملازمت کے تحت تین کالجوں میں رہا ہوں۔ اور تینوں جگہ کا میرا تجربہ یہی ہے کہ اگر آدمی اپنا کام ٹھیک طریقہ سے کرے تو اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آسکتی“۔ کیا براہِ کرم، آپ اپنے کچھ ایسے تجربات بتائیں گے جن سے آپ کے اس خیال کی واقعاتی تائید ہوتی ہو،“ میں نے کہا۔ ”ضرور،“ مسٹر خان نے کہنا شروع کیا۔ ”سب سے پہلے جس ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں میرا تقرر ہوا تھا، اس کا قصہ سنیے۔ وہاں ابتداء میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ ایک ہندو ٹیچر کو معلوم نہیں مجھ سے کیا ضد ہو گئی کہ وہ میرے خلاف ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔ ایک روز تنخواہ تقسیم کرنے کا دن تھا۔ وہ میرے آفس آئے اور کچھ بدتمیزی کے انداز میں باتیں کیں۔ مجھے غصہ آ گیا اور میں نے ان کو آفس سے نکلوادیا۔ اب وہ مجھ سے اور بھی خفا ہو گئے، اور میرے خلاف ایک کیس تیار کیا جس میں مجھ پر طرح طرح کے فرضی الزامات قائم کئے اور اس کو لے کر ڈائرکٹریٹ میں پہنچے۔ پہلے انھوں نے آفس سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کی، مگر جب