A. M. Khan, Principal
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۴
انھوں نے کچھ توجہ نہ دی تو وہ ڈائرکٹرر سے ان کے دفتر میں ملے۔ جب انھوں نے ڈائرکٹ سے کہا کہ وہ میرے خلاف شکایت لے کر آئے ہیں تو ڈائرکٹر بہت خفا ہوئے۔ انھوں نے کہا’’ہم مسٹر خان کے خلاف کوئی شکایت سننا نہیں چاہتے‘‘۔ اور یہ کہہ کر ان کو آفس سے باہر نکلوا دیا۔ ’’اور آپ جانتے ہیں یہ ڈائرکٹر کون تھا‘‘۔ مسٹر خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اور پھر خود ہی جواب دیا’’وہ کوئی مسلمان نہیں، بلکہ ہندو تھا‘‘۔
’’میں سمجھتا ہوں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ ڈائرکٹر کو معلوم ہوگا کہ آپ کسی قسم کی کوئی گڑبڑ نہیں کرتے اور اپنا کام محنت سے انجام دیتے ہیں‘‘، میں نے اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
’’پھر اسی سے ملتا جلتا قصہ ایک چپراسی کے ساتھ پیش آیا‘‘۔ ہمارے کالج میں بوائلر (boiler) کو نصب کرنے کے سلسلے میں کچھ تعمیرات کی ضرورت تھی۔ میں نے سوچا کہ چپراسیوں کی فوج بے کار پڑی رہتی ہے، ان کو مستریوں کے ساتھ کام پر لگا دوں۔ اس طرح کام بھی ہو جائے گا اور کالج کا فائدہ بھی ہوگا۔ چپراسیوں میں ایک شخص انسٹرکٹر (instructor) کے گریڈ کا تھا۔ اس سے میں نے کہا تو وہ بولا یہ کام نہیں ہے‘‘۔ مجھے اس کے جواب پر غصہ آیا اور میں نے اس کو معطل (suspend) کر دیا، حالاں کہ قانونی طور پر مجھے معطلی کا اختیار نہیں تھا‘‘۔
’’اب اس ہندو چپراسی نے میرے خلاف زبردست شکایت نامہ تیار کیا اور اس کو ڈائرکٹر کے نام روانہ کیا۔ وہاں سے میرے نام چٹھی آئی کہ ڈائرکٹریٹ میں ایسی ایسی شکایت پہنچی ہے اور یہ کہ میں اس کی وجہ بیان کروں۔ میں نے صحیح صحیح بات لکھ دی۔ اور لکھا کہ میں نے جو کچھ کیا، کالج کے مفاد میں کیا۔ اس کے بعد ڈائرکٹر کا فیصلہ آیا جس میں چپراسی کو اس سے بھی زیادہ سخت سزا دی گئی جو میں نے تجویز کی تھی۔ معطلی میں نصف تنخواہ ملتی ہے۔ ڈائرکٹر نے لکھا کہ اس کو تین مہینے کی بلا تنخواہ جبری رخصت دی جاتی ہے۔ نیز اس کو بدعملی (misconduct) کا مجرم قرار دیا اور لکھا کہ اس کا اندراج اس کی سروس بک میں کیا جائے‘‘۔ ’’مگر حکم کے خلاف ضابطہ ہونے کا ڈائرکٹر نے کوئی نوٹس نہیں لیا‘‘، میں نے کہا۔ ’’ہاں، اس نے فیصلے کے آخر میں لکھا کہ ہیڈ ماسٹر کا یہ فیصلہ اس کے اختیارات سے باہر تھا، اس لیے آئندہ احتیاط کی جائے۔ ‘‘