Al-Risala · May 2012 · page 45

A. M. Khan, Principal

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۵

”کیا آپ کا سابقہ کبھی کسی نیتا سے بھی پیش آیا ہے،“ میں نے ایک نیا سوال کیا۔ ”ہاں، ایسا بھی ہوا،“ مسٹر خان نے کہنا شروع کیا ”ایک بار ایک خراط مشین (Lathe) کی خریداری کے سلسلے میں ایک دکان دار سات سو روپیہ غلط طور پر وصول کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اس کو موقع نہیں دیا۔ اس کے علاوہ کالج کے اسٹاف میں بھی کئی لوگ اسی طرح کی وجہ کی بنا پر اندر اندر مجھ سے برہم تھے۔ ان لوگوں نے مل کر ایک ایم ایل اے کے ذریعے سے اسمبلی میں میرے خلاف شکایت پہنچا دی۔ وہاں سے ڈائرکٹریٹ میں سوال نامہ آیا جو میرے پاس بھیجا گیا۔ اس میں مجھ پر مختلف قسم کے الزامات تھے، مثلاً— آپ مسلم گُٹ کے بڑے پجاری ہیں۔ آپ گھس کھاتے ہیں۔ آپ اپنے کالج میں چوروں کو جگہ دئے ہوئے ہیں، وغیرہ۔

اسی طرح نمبر وار چھ سوالات تھے۔ میں نے ان سوالات کا الگ الگ جواب نہیں دیا۔ میں نے لکھا کہ یہ سب بالکل بے حقیقت باتیں ہیں اور اس طرح کی باتوں کے بارے میں میں کوئی صفائی دینا نہیں چاہتا۔ البتہ ڈپارٹمنٹ خود جو اقدام چاہے کرے۔ آخر میں میں نے لکھا: If the department feels the least doubt about me, I may be relieved from my duties. (اگر ڈپارٹمنٹ کو میرے اوپر ذرا بھی شبہ ہو تو مجھے میری ملازمت سے الگ کر دیا جائے) ”اس کے جواب میں پھر میرے پاس کوئی کاغذ نہیں آیا۔ البتہ مجھے معلوم ہوا کہ ایم ایل اے صاحب نے ایک اور لمبی چوڑی فردِ جرم میرے خلاف تیار کر کے روانہ کی جس کو ڈائرکٹر نے اپنے دفتر میں روک لیا اور دوبارہ اس کو میرے پاس نہیں بھیجا۔ “ ”آج کل لڑکوں کی طرف سے کالج کے لوگوں کو بڑی شکایت رہتی ہے، اس سلسلہ میں آپ کے تجربات کیا ہیں،“ میں نے پوچھا۔ ”یہاں بھی وہی بات ہے،“ مسٹر خان بولے ”اگر آپ اپنا کام اچھی طرح سے کریں تو آپ کو کبھی شکایت نہیں ہوگی‘۔

”اس سلسلہ میں آپ اپنا کوئی متعین تجربہ بتائیے،“ میں نے کہا۔

”بہت سے تجربات ہیں،“ مسٹر خان بولے ”میں جب دوار کا پالی ٹیکنیک میں سینئر لکچرار کی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page