A. M. Khan, Principal
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۶
حیثیت سے کام کر رہا تھا، ایک بار ایسا ہوا کہ ہمارے کالج کا ایک لڑکا اپنا کپڑا لینے کے لیے شہر کی واشنگ کمپنی میں گیا۔ وہاں کسی بات پر دکان دار سے جھگڑا ہوا اور دکان دار نے لڑکے کو مار دیا۔ کالج میں جب اس کی خبر پہنچی تو تمام لڑکے بگڑ گئے اور لاٹھی اور بلم لے کر بہت بڑی تعداد میں بازار کی طرف مارچ کرنا شروع کر دیا۔ پرنسپل صاحب نے مجھ کو بلوایا، کیوں کہ پرنسپل صاحب کو معلوم تھا کہ لڑکے میرا کچھ لحاظ کرتے ہیں۔ میں وہاں پہنچا تو لڑکے نعرہ لگاتے ہوئے بازار کی طرف بڑھ رہے تھے۔ میں فوراً لاٹھیوں اور بلموں سے مسلح اس مجمع میں گھس گیا، اور کہا کہ تم لوگ آگے نہیں جاسکتے۔ کچھ دیر کی کوشش کے بعد بالآخر لڑکوں نے کہا اچھا، اگر آپ کہہ رہے ہیں تو ہم رک جاتے ہیں، ورنہ آج اس دکان دار کی خیریت نہیں تھی‘۔
”یہ پرنسپل کس قوم کا آدمی تھا‘‘ میں نے پوچھا ’ہندو تھا‘، مسٹر خان نے کہا ’’اور دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہندو پرنسپل کی بات لڑکوں نے نہیں مانی اور وہ مسلمان لکچر کی بات مان گئے‘‘۔ ’’جی ہاں۔ یہ بہت عجیب واقعہ ہے‘‘۔ میں نے کہا۔ ’’اور آپ تو اسی پالی ٹیکنیک کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ پھر آتے وقت لڑکوں کا رد عمل کیا رہا‘‘۔
”یہ اور بھی زیادہ عجیب واقعہ ہے۔ اور سچ پوچھے تو مجھے امید نہیں تھی کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے‘‘۔ ”براہ کرم، اس کی کچھ تفصیل بتائیے‘‘۔
”وہ بھی سن لیجئے۔ سب سے پہلے تو یہ ہوا کہ روانگی سے دو دن پہلے لڑکوں کی ایک جماعت میرے پاس آئی اور اس نے اصرار کیا کہ کل آپ دن بھر ہم کو پڑھائیے اور کورس پورا کر دیجیے‘‘۔ ”شاید ان کو احساس تھا کہ آپ کے بعد کوئی ایسا پڑھانے والا ان کو نہیں ملے گا‘‘۔ میں نے کہا۔ ”ہاں، بہر حال ان کو میرے بارے میں اس قسم کی خوش گمانی تھی‘‘۔ مسٹر خان نے کچھ رکتے ہوئے کہا’’چناں چہ حال میں وہاں کے ایک لکچر ر مجھ سے ملے تو انھوں نے بتایا کہ میرے آنے کے بعد جس ہندو لکچر رکو میرا کلاس دیا گیا تھا، کچھ دن کے بعد لڑکوں کا کہنا تھا کہ خاں صاحب جتنا پڑھا گئے تھے، وہی ہم جانتے ہیں، اس کے بعد کا کچھ ہماری سمجھ میں نہیں آیا‘‘۔