A. M. Khan, Principal
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۷
پھر روانگی کے دن لڑکوں نے مجھ کو الوداعی پارٹی دی، لوگ کہتے ہیں کہ وہ کالج کی پوری تاریخ میں نرالی پارٹی تھی۔
’’اس کی بھی تفصیل بتائیے،‘ میں نے کہا’’ پارٹی کے بعد‘‘ مسٹر خان نے ہچکچاہٹ کے انداز میں کہنا شروع کیا’’ ایک ایک لڑکے نے مجھ کو ہار پہنائے۔ یہ ہار مقدار میں اتنے زیادہ ہو گئے کہ بلا مبالغہ ایک بیل گاڑی ان سے بھری جا سکتی تھی۔ پھر یہ طلبہ چوں کہ تقریباً سب کے سب ہندو تھے، اس لیے اپنے اصول کے مطابق، ہر ایک نے ’’چرن اسپرش‘‘ بھی کیا، یعنی ہر لڑکا ہار پہنانے کے دونوں ہاتھ جوڑ کر میرے پاؤں چھوتا تھا۔ ‘‘ ’’اس موقع پر آپ کو سپاس نامہ بھی تو دیا گیا ہو گا‘۔ میں نے کہا۔
’’جی ہاں،‘‘ مسٹر خان نے کہا۔ اس کے بعد انھوں نے بڑے سائز پر فریم کیا ہوا ایک ’’ابھی نندن پتر‘‘ (سپاس نامہ) اندر سے منگوایا۔ میں نے دیکھا تو اس میں مسٹر خان کو نہایت عزت اور محبت کے ساتھ خطاب کیا گیا تھا اور ان کو ’’آدرش گروُ‘‘، ’’گیان ندھی‘‘، ’’سوم تیاگی مورتی‘‘، ’’گیان ساگر‘‘ وغیرہ الفاظ سے یاد کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ لڑکوں نے کئی اور قیمتی سامان اظہارِ خلوص کے طور پر مسٹر خان کو دیے۔
’’اس کے بعد سیکڑوں کی تعداد میں تمام لڑکے میرے ساتھ اس طرح اسٹیشن آئے کہ وہ راستہ بھر نعرہ لگا رہے تھے۔ ‘‘ ’’کیا نعرہ تھا‘ میں نے پوچھا۔ ’’وہی جو عام طور پر ہوتا ہے۔ ‘‘ ’’آخر بتائیے کہ وہ نعرے کیا تھے‘۔ میں نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔
’’یہی کہ ــــ خان صاحب زندہ باد، گرو جی زندہ باد، خان صاحب امر رہیں، وغیرہ‘‘۔ پھر جب لڑکوں نے آخری طور پر مجھے رخصت کیا تو تمام لڑکے زار و قطار رورہے تھے۔ ‘‘ ’’یہ واقعی نہایت عجیب واقعہ ہے‘‘ میں نے کہا۔ اور جب یہ خیال کیا جائے کہ یہ واقعہ ابھی 1966 کے آخر میں پیش آیا ہے تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان اگر واقعی اپنا کام ٹھیک طریقہ سے انجام دے تو سارے تعصب کے باوجود ہندوؤں کے اندر انتہائی عزت کا مقام