A. M. Khan, Principal
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۸
حاصل کر سکتا ہے اور اگر ساری قوم ایسی ہو جائے تو تعصب کی دیوار سرے سے ڈھ جائے“۔ ’’جی ہاں‘‘ مسٹر خان نے کہا ’’میں تو تعصب وغیرہ کی بات کو بالکل نہیں مانتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بطور واقعہ مجھے تعصب کے وجود سے انکار ہے۔ بلاشبہ تعصب ہر کام میں کچھ نہ کچھ مشکلیں ہوتی ہیں اور تعصب کی حیثیت بھی میرے نزدیک بس زندگی کے ایک ’’چیلنج‘‘ کی ہے۔ جس طرح دوسرے چیلنجوں کو محنت اور دانش مندی سے عبور کیا جاتا ہے، اسی طرح اس چیلنج کو بھی یقینی طور پر عبور کیا جا سکتا ہے۔ زندگی میں دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہوتی کہ کوئی مشکل ہے یا نہیں، بلکہ دیکھنے کی چیز صرف یہ ہوتی ہے کہ مشکل کا کوئی حل موجود ہے یا نہیں۔ اگر حل موجود ہے تو پھر کوئی مشکل مشکل نہیں‘‘۔
میں مسٹر خان کی ان باتوں کو حیرت کے ساتھ سن رہا تھا۔ کیوں کہ میرا خیال تھا کہ وہ صرف انجینئر ہیں، مگر معلوم ہوا کہ وہ انجینئر ہی نہیں، بلکہ مفکر بھی ہیں۔ ان کے پاس ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک عظیم پیغام ہے۔ ایک ایسا پیغام جو بہت سے مفکروں اور لیڈروں کے پیغامات سے زیادہ قیمت رکھتا ہے۔
’’اب تعصب کی بات پر ایک قصہ اور سن لیجیے‘‘ مسٹر خان کچھ دیر خاموش رہ کر بولے۔ ’’جس پالی کنیک کو چھوڑ کر میں یہاں آیا ہوں، اس کے پرنسپل ہندو تھے اور نہایت متعصب ہندو۔ وہاں کام کے دوران مجھے دو جگہیں ملیں۔ ایک، آئی آئی ٹی (I.T.I) میں ٹیکنکل افسر کی جگہ اور دوسرے یہاں پرنسپل کی جگہ، مگر وہ کسی طرح مجھے relieve کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ بڑی لمبی کش مکش اور حکومت کے سخت احکام کے بعد انھوں نے مجھے چھوڑا ہے‘‘۔ ’’شاید متعصب ہونے کی وجہ سے وہ آپ کو پریشان کرنا چاہتے ہوں گے‘‘ میں درمیان میں بولا۔ ’’ہاں، عام خیال تو یہی تھا‘‘ مسٹر خان نے کہا۔ ’’مگر مجھے ان کی ایک تحریر ملی جو انھوں نے کمشنر کے نام لکھ کر بھیجی تھی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ معاملہ صرف تعصب کا نہیں تھا‘‘۔ ’’وہ کیا تحریر تھی‘‘ میں نے پوچھا۔