Al-Risala · May 2012 · page 49

تعلیم کا شوق

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۹

یہ دوصفحہ کا ایک خط تھا جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ کیوں مجھ کو یہاں سے relieve کرنا کالج کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس تحریر کا آخری جملہ یہ تھا:

The departure of Mr. A. M. Khan from this institute would cause the education of students to suffer an irreparable loss. (مسٹر اے ایم خان کا اس ادارے سے جانا لڑکوں کی تعلیم کے لیے ایسے نقصان کا باعث ہوگا جس کی تلافی نہیں کی جاسکتی)

اب ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا اور مسٹر خان کی نگاہیں اپنی گھڑی کی سوئی پر جم چکی تھیں۔ ’’مسٹر اے ایم خان‘ میں نے کہا ’’ مجھے آپ سے مل کر بے حد خوشی ہوئی۔ مجھے آپ کی زندگی میں مسلمانوں کے لیے ایک عظیم پیغام نظر آتا ہے۔ میں اس پیغام کو سارے مسلمانوں تک پہنچاؤں گا۔ مجھے یقین ہے کہ مسلمان اگر آپ کے نمونہ کو پکڑ لیں تو ان کے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے‘‘۔ (الجمعية ویکلی، صفحہ 6-5)

تعلیم کا شوق

برادر م عبد المحیط خاں کو تعلیم کا بہت شوق تھا۔ وہ تعلیم کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ خود انھوں نے نہایت محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ پہلے انھوں نے ایک گھریلو استاد ماسٹر صدیق صاحب سے گاؤں (بڈھیریا) پر تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے اعظم گڑھ سے ہائی اسکول پاس کیا۔ اس کے بعد ان کی بقیہ تعلیم ہندو یونی ورسٹی (بنارس) میں ہوئی۔ تعلیم کے زمانے میں شروع سے آخر تک ظہیر الاسلام مرحوم اُن کے ساتھی تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ظہیر الاسلام صاحب نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں سروس حاصل کر لی تھی۔ علی گڑھ میں 1988 میں ان کا انتقال ہوا۔ برادر م عبد المحیط خاں تعلیم کے سلسلے میں طلبا کی مدد کرتے رہتے تھے۔ سروس کے زمانے میں وہ طلبا کو الگ سے پڑھایا کرتے تھے۔ ریٹائر منٹ کے بعد انھوں نے طلبا کو میتھمیٹکس پڑھانے کے لیے اپنے گھر پر ایک مستقل سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سے بہت سے طلبا نے فائدہ اٹھایا۔ ان طلبا میں زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page