تعلیم کا شوق
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۵۰
تعداد ہندو نو جوانوں کی ہوتی تھی۔ تعلیم کے بارے میں وہ نوجوانوں کے ساتھ کس طرح تعاون کرتے تھے، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ میرے بھتیجے شکیل احمد خاں انجینئر نے ہائی اسکول کے بعد اپنی تعلیم چھوڑ دی تھی اور اعظم گڑھ میں محمد یونس صاحب کی شرکت میں تیل کی دکان کر لی تھی۔ عبد المحیط خاں کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ وہ دکان سے ہٹا کر شکیل احمد خاں کو اپنے ساتھ لے گئے اور بنارس ہندو یونیننن ورسٹی کے انجینئرنگ کالج میں داخلہ دلوا کر ان کی تعلیم مکمل کرائی۔ شکیل احمد خاں انجینئر تعلیم کے بعد انڈسٹری کے میدان میں آگئے۔ پہلے انھوں نے اپنے والد کے ساتھ الہ آباد میں لائٹ اینڈ کمپنی لمیٹڈ قائم کی۔ بعد کو وہ عرب امارات چلے گئے۔ وہاں زیادہ بڑے پیمانے پر وہ شارجہ میں کام کرتے رہے۔ 7 اپریل 2010 کو 70 سال کی عمر میں حیدرآباد (انڈیا) میں ان کا انتقال ہوا۔
جدید تعلیم (modern education) کا چرچا ہمارے خاںدان میں بہت پہلے شروع ہوا تھا۔ میرے چچازاد بھائی اقبال احمد خاںسہیل (وفات: 1955) نے بنارس سے ہائی اسکول کیا۔ اس کے بعد وہ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ گئے۔ وہاں انھوں نے بی اے، ایم اے، ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ اقبال احمد خان سہیل علی گڑھ میں ایک نہایت ممتاز طالب علم کی حیثیت رکھتے تھے۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی (وفات: 1977) مولانا اقبال سہیل کے ساتھیوں میں سے تھے۔ مولانا سہیل کی علی گڑھ کی تعلیمی زندگی کے زمانے کا ایک واقعہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں : ” 1918 یا 1919 کا واقعہ ہے، یونی میں ”امُّ الالسنۃ عربی‘ پر پروفیسر خواجہ کمال الدین مرحوم کی اردو میں تقریر تھی۔ مرحوم نے بڑی قابلیت اور اعتماد کے ساتھ تقریر شروع کی۔ مولانا سہیل کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ سردیوں کا زمانہ تھا۔ مولانا کو احباب اسپتال لائے تھے۔ یونی میں مجمع دیکھا تو کہا: مولانا، تکلیف نہ ہو تو ذرا تقریر سنتے چلیں۔ مولانا نے کہا اچھی بات ہے، لیکن آنکھوں میں تکلیف زیادہ ہے، جلد اٹھ آئیں گے۔ سب لوگ یونی میں آئے۔ مولانا سہیل سر سے پاؤں تک بڑے وزنی لبادہ میں ملفوف تھے۔ سر پر اونی کنٹوپ تھا۔