Al-Risala · May 2012 · page 51

تعلیم کا شوق

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۵۱

آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور اس پر ایک ہرے رنگ کا چھجا (شیڈ) لگا ہوا تھا۔ خواجہ کمال الدین صاحب نے کم وبیش دو گھنٹے تک تقریر کی۔ حاضرین محوِ حیرت تھے۔ تقریر ختم ہوئی تو پریزیڈنٹ نے اعلان کیا کہ مولانا سہیل، فاضل مقرر کا طلبائے کالج کی طرف سے شکریہ ادا کریں گے۔ مولانا کے خلاف ’’سازش‘‘ کامیاب ہوئی۔ دوستوں اور ساتھیوں نے مولانا کو ہاتھوں ہاتھ ڈائس پر پہنچا دیا۔ مولانا کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میز کے پاس کھڑے کئے گئے۔ تھوڑی سی ناک، اس سے ذرا بڑی تھوڑی اور ہاتھ کی صرف انگلیاں دکھائی دے رہی تھیں ۔ مولانا نے بے تکلف تقریر شروع کردی۔ اس اعتماد سے گویا تمام عمر اسی بحث پر تیاری کی تھی۔ جو لوگ یونین کے مجمع سے واقف ہیں، وہ جانتے ہوں گے کہ اچھے مقرر کے بعد کسی اور کی تقریر سننے کے لیے کوئی نہیں ٹھہرتا اور صدر کا شکریہ بھی اسی بد نظمی کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ مولانا سہیل نے بھی ’’اُم الالسنہ عربی‘‘ پر تقریر شروع کی۔ پون گھنٹے تک تقریر کی۔ نئے نئے پہلوؤں سے موضوع پر روشنی ڈالی۔ نئی نئی مثالیں پیش کیں ۔ تقریر کو اس درجہ دل نشیں اور کہیں کہیں اتنا شگفتہ بنا دیا کہ خواجہ کمال الدین نے بے اختیار ہو کر مولانا کو گلے لگا لیا اور فرمایا: ’’تمھارے ایسا جامع کمالات آدمی ساتھ کام کرنے والا مل جائے تو میں اسلام کا جھنڈا یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر نصب کر دوں‘‘۔ (مضامین رشید، صفحہ 43)

اقبال احمد خاں سہیل کے ذریعے خاندان کے اور بہت سے لوگوں نے جدید تعلیم حاصل کی۔ میرے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں کا داخلہ انھوں نے اعظم گڑھ کے ایک اسکول میں کرایا، لیکن عبدالعزیز خاں صاحب اپنی تعلیم آگے تک جاری نہ رکھ سکے۔ وہ جلد ہی انڈسٹری کی لائن میں چلے گئے۔ عبدالعزیز خاں صاحب نے عبدالمحیط خاں کو یونی ورسٹی کی تعلیم دلائی۔ اس کے بعد عبدالمحیط خاں نے میرے بھتیجے شکیل احمد خاں کو بنارس ہندو یونی ورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم دلائی۔ بعد کو مجھے یہ خیال ہوا کہ ہمارے خاندان میں افراد کے اعتبار سے تو جدید تعلیم آئی، لیکن اجتماعی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page