Al-Risala · May 2012 · page 52

موت کا زندہ تصور

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۵۲

اعتبار سے کوئی خاص کام نہ ہوسکا۔ چناں چہ میں نے شکیل احمد خاں سے کہا کہ ہمارے وطن بڑھیا (اعظم گڑھ) میں ایک انگریزی اسکول کھولا جائے ۔ اس طرح بڑھیا میں ایک ہائی اسکول قائم ہوا جو کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے ۔ اس اسکول کا آئیڈیا میں نے ہی دیا تھا ۔ چناں چہ اسکول کے تعارف نامے میں یہ الفاظ درج ہیں:

It was during one of the discussions between Shakil Ahmad Khan and his uncle, Maulana Wahiduddin Khan, that the idea of establishing an educational institution was conceived. یہ معاملہ ڈسکشن (discussion) کا نہ تھا، بلکہ وہ سجیشن (suggestion) کا معاملہ تھا۔ اصل یہ ہے کہ 2000ء کے آغاز میں میرے بھتیجے شکیل احمد خاں انجینئر جوشارجہ میں کاروبار کرتے تھے، دہلی میں مجھ سے ملے۔ انھوں نے بتایا کہ میرے پاس کچھ رقم ہے، اُس کو میں کسی ملّی کام میں لگانا چاہتا ہوں۔ مسٹر شکیل احمد خاں نے بتایا کہ انھوں نے کچھ مشہور مسلم اداروں کے ذمہ داروں کے سامنے یہ پیش کش کی کہ وہ یہ رقم ان کو دے دیں گے، لیکن شرط یہ ہے کہ ایک مقرر مدت تک ادارہ کا کنٹرول میرے ہاتھ میں ہوگا، مگر کسی نے یہ شرط نہ مانی۔

میں نے شکیل احمد خاں سے کہا کہ اس طرح آپ اپنا پیسہ صرف ڈمپ (dump)

کریں گے ۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ میں نے کہا کہ آپ یہ کیجئے کہ اس رقم سے بڑھیا میں ایک اچھا انگلش میڈیم اسکول کھولیے ۔ شکیل صاحب نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور اس طرح ہمارے خاندان کی مشترک زمین پر یہ اسکول ستمبر 2000ء میں قائم ہوا۔

موت کا زندہ تصور

31 جنوری 2010 کو میرے چھوٹے بھائی انجینئر عبد المحیط خاں (پیدائش: 1932) کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت وہ فیض آباد میں تھے۔ ان کی عمر 77 سال تھی۔ میں نے اپنی لمبی عمر میں ہزاروں افراد کو مرتے ہوئے دیکھا ہے یا ان کی موت کی خبر سنی ہے۔ لیکن میرے بھائی کی موت میرے لیے ایک بالکل نیا تجر بہ تھا۔ اس نے میرے اندر ایک نیا تصور پیدا کیا۔ اس کو اگر میں کوئی نام دوں تو

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page