Al-Risala · May 2012 · page 53

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۵۳

میں کہوں گا کہ موت کا زندہ تصور (living concept of death)۔

میں نے غور کیا کہ موت کے بارے میں یہ نیا شعور میرے اندر کیوں پیدا ہوا۔ اصل یہ ہے کہ ہم لوگ 6 بھائی بہن تھے۔ چھوٹے بھائی کے انتقال کے بعد مجھے اچانک محسوس ہوا کہ میرے سوا تمام بھائی بہن مر چکے ہیں۔ اس اعتبار سے، اب میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ اس احساس سے مجھے سخت جھٹکا لگا۔ میں نے سوچا کہ میرے بھائی اور بہن کل تک اسی دنیا میں تھے جہاں کہ میں ہوں، لیکن اب وہ ایک ایک کر کے مر چکے ہیں، یہاں تک کہ 6 بہن بھائیوں میں اب میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ وہ لوگ اس دنیا سے نکل کر ایک اور دنیا میں پہنچ چکے ہیں۔ اب نہ وہ مجھ سے مل سکتے ہیں اور نہ میں اُن سے مل سکتا۔ موت نے مجھ کو اپنے تمام بھائی بہنوں سے ابدی طور پر جدا کر دیا۔

موت کیا ہے۔ موت ایک جبری انخلا (compulsory expulsion) کا معاملہ ہے۔

موجودہ زندگی میں ہر آدمی اپنے لیے ایک دنیا بناتا ہے۔ گھر، جائداد، بزنس، اولاد، تعلقات، شہرت، عوامی حلقہ، عہدہ، سماجی پوزیشن، وغیرہ۔ ان تمام چیزوں کی بنیاد پر ہر آدمی کی اپنی ایک چھوٹی یا بڑی دنیا ہوتی ہے، جس کے اندر وہ اپنے صبح و شام گزارتا ہے۔ وہ اس کو اپنی دنیا سمجھتا ہے۔ لیکن اچانک موت کا وقت آ جاتا ہے اور فرشتے اس کو جبری طور پر موجودہ دنیا سے نکال کر اُس دنیا میں پہنچا دیتے ہیں، جہاں اس کے پاس اپنے ذاتی وجود کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔ موت کے واقعے کو صرف وہ شخص جانتا ہے جو اس حقیقت کا زندہ شعور رکھتا ہو۔

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

عبد المحیط خاں مرحوم رٹائرمنٹ کے بعد زیادہ تر علی گڑھ اور فیض آباد میں رہتے تھے۔ اس زمانے میں اُن پر زیادہ تر موت کی یاد اور آخرت کی سوچ کا غلبہ ہوتا تھا۔ وہ اپنا زیادہ وقت ’’تذکیر القرآن‘‘ اور دوسری اسلامی کتابیں پڑھنے میں گزارتے تھے۔ مطالعے کے دوران وہ الرسالہ اور میری کتابوں کے منتخب حصے ایک نوٹ بک میں لکھتے رہتے تھے۔ اس طرح ان کی بہت سی تحریریں متفرق اجزا کی صورت میں جمع ہو گئی ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کی تحریروں کا یہ مجموعہ ان کی صاحب زادی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page