عبد المحیط خاں کی یادداشتیں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۵۴
فہمیدہ خانم نے مجھ کو دیا۔ یہاں ان اقتباسات کے کچھ منتخب حصے نقل کئے جاتے ہیں :
• معرفت، خدا کی شعوری دریافت کا نام ہے، وہ کسی پُر اسرار چیز کا نام نہیں۔
• معرفت اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی عطیہ (divine gift) ہے۔ دنیا میں جس انسان کو معرفت کا عطیہ ملا، وہی وہ انسان ہے جو آخرت میں جنت کے عطیہ کا مستحق قرار پائے گا۔ معرفت گویا کہ کسی انسان کے لیے خدا کا دنیوی انعام ہے، اور جنت کسی انسان کے لیے خدا کا اُخروی انعام۔ • معرفت صرف اُس سینے میں جگہ پاتی ہے جو مکمل طور پر منفی احساس سے خالی ہو۔ جس دل کے اندر نفرت اور غصہ اور انتقام موجود ہو، اُس دل میں کبھی معرفت جگہ نہیں پائے گی۔ • دعا ایک طاقت ہے۔ نازک وقتوں میں دعا مومن کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ دعا اس اعتماد کا سرچشمہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی کھونا آخری نہیں، بلکہ ہر کھونے میں از سر نو پانے کا راز چھپا ہوا ہے۔ • شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ شکر جنت کی قیمت ہے۔ شکر کے بغیر ایمان نہیں۔ شکر کے بغیر سچی خدا پرستی نہیں۔ شکر کے بغیر آدمی اُن اعلیٰ کیفیات کا تجربہ نہیں کر سکتا جس کو قرآن میں ربانیت (79 :3) کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین داری کی اصل روح شکر ہے۔ شکر کے بغیر دین داری ایسی ہی ہے جیسے پھل کا اوپر ی چھلکا۔ • آخرت میں نجات صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں کہ اُن کے پاس دو میں سے کوئی ایک چیز اپنی اعلیٰ صورت میں موجود ہو۔ وہ دو چیزیں یہ ہیں—— سچا عمل، یا سچی دعا۔ سچا عمل وہ ہے جو خالص رضا الہی کے لیے کیا جائے ۔ اور سچی دعاوہ ہے جو کامل عجز کی سطح پر کی گئی ہو۔ • جنت کیا ہے، جنت دراصل خدا کے پڑوس میں رہنے کا نام ہے (66:11)۔ موت سے پہلے کی دنیا میں مومن اپنے احساس کے اعتبار سے، خدا کے پڑوس میں جیتا ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں مومن واقعہ کے طور پر خدا کے پڑوس میں زندگی گزارے گا۔ • جنت ایک حقیقی انعام ہے اور حقیقی انعام کسی کو ایک حقیقی عمل ہی کے ذریعے مل سکتا ہے، اس سے کم تر