Al-Risala · May 2012 · page 55

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۵۵

درجے کی کوئی چیز جنت کی قیمت نہیں بن سکتی۔

جو لوگ اپنی موجودہ زندگی میں جنت کے طالب نہ بن سکیں، جن کا دل جنت کے سوا کسی اور چیز میں لگا ہوا ہو، وہ اللہ کے مطلوب انسان نہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کی ۔ ان کا کیس ناقدری کا کیس ہے، نہ کہ قدر دانی کا کیس۔

آخرت کی جنت اُس کے لیے ہے جو اس دنیا کی لذتوں سے اپنے آپ کو بے رغبت بنا لے، اور آخرت کی جہنم اُس کے لیے ہے جو اس دنیا کی لذتوں میں گم رہے، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر جائے۔

جہنم کے دروازے پر لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے، اور جنت کی طرف جانے والا راستہ بالکل سونا پڑا ہوا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ غیر خدائی منظر جو آج خدا کی دنیا میں ہر طرف نظر آتا ہے۔ موت زندگی کا خاتمہ نہیں۔ موت ایک نئے دور حیات کا آغاز ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے جو آج کے ملے ہوئے مواقع کو کل کے لیے استعمال کرے۔

موت کے مقابلے میں ہر ایک کے لیے شکست مقدر ہے۔ کسی کا عہدہ، کسی کی مقبولیت، کسی کی دولت، کسی کا اقتدار، غرض کسی کی کوئی چیز اس کو ہر گز موت سے بچانے والی نہیں۔ کیسا عجیب ہے آج کا وہ موقع جس کو انسان کھورہا ہے، اور کیسی بھیا نک ہوگی کل کی وہ محرومی جس سے انسان دوچار ہوگا، اور جس سے اپنے آپ کو بچانا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ موت کا مطلب مرنے والے کے لیے یہ ہے کہ وہ عمل کی دنیا سے نکل کر جزا کی دنیا میں چلا گیا۔ وہ اپنے خالق کے سامنے حساب و کتاب کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔ جہاں تک زندہ رہنے والوں کا معاملہ ہے، موت اُن کے لیے ایک سنگین یاد دہانی (reminder) کی حیثیت رکھتی ہے۔ لوگ اپنی سال گرہ (birthday) مناتے ہیں، حالاں کہ ہر سال گرہ صرف اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی کی عمر کا ایک سال اور کم ہو گیا۔ ایسی حالت میں، ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ ہر سال کی تکمیل پر آنے والی موت کو یاد کرے ۔ کیوں کہ اگلی سال گرہ کا آنا یقینی نہیں، لیکن موت کا آنا یقینی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page