Al-Risala · May 2012 · page 56

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۵۶

موت ایک ایسا گیٹ ہے جس کے اندر آدمی داخل ہونے کے لئے مجبور ہے۔ اور داخل ہونے کے بعد اس کو خالق کائنات کا آخری فیصلہ (final judgement) سننا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کے لئے کوئی اور عدالت موجود نہیں۔

موت کا فرشتہ کبھی آپائنٹمنٹ (appointment) لے کر نہیں آتا، وہ بتائے بغیر اچانک آدمی کے پاس آجاتا ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے جو ہر دن کو اپنا آخری دن سمجھے۔ جو آدمی دوسروں کی موت کے واقعے میں خود اپنی موت کو دیکھے، وہی زندہ انسان ہے۔ زندہ انسان اس کا انتظار نہیں کرتا کہ خود اُس پر ایک مہلک تجربہ گزرے، اس کے بعد وہ اُس سے سبق لے۔ زندہ انسان وہ ہے جو دوسروں پر گزرنے والے تجربات سے نصیحت حاصل کرے۔ مرنے والے مر گئے— یہ سب کو معلوم ہے۔ مگر ایک اور خبر ایسی ہے جو کسی کو معلوم نہیں، وہ یہ کہ مجھے بھی ایک دن مرنا ہے۔ ایک دن میرا بھی وہی انجام ہونے والا ہے جو انجام دوسروں کا ہو چکا ہے۔

ہر آدمی اپنی ساری توانائی خرچ کر کے زیادہ سے زیادہ پیسہ کماتا ہے، صرف اس لیے تاکہ وہ جہنم کا زیادہ مہنگا ٹکٹ خرید سکے— یہ جملہ اکثر نہایت درد کے ساتھ میری زبان سے نکل جاتا ہے۔ آدمی اپنے بچوں کے مادی مستقبل کی تعمیر میں اپنے آپ کو ہلکان کئے رہتا ہے، یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آجاتا ہے اور خود اُس کو ایک ایسے مستقبل کی طرف ہانک دیا جاتا ہے جس کے لیے اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔

امتحان ہال کے اندر ایک طالب علم جس نفسیات کے ساتھ رہتا ہے، اُسی نفسیات کے ساتھ ہم کو اپنی پوری زندگی میں رہنا ہے۔ ہر ایک کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے دیے ہوئے پرچے کو درست طور پر حل کرے، تاکہ امتحان کی مدت پوری ہونے کے بعد جب اُس کا رزلٹ سامنے آئے تو وہ اُس کے لیے کامیابی کی خوش خبری ہو، نہ کہ ناکامی کا اعلان۔

آخرت کی جنت صرف اُس انسان کے لیے مقدر ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہو گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page