Al-Risala · May 2012 · page 57

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۵۷

آج لوگوں کے پاس الفاظ ہیں جن کو وہ بے تکان دہرا رہے ہیں۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ان کے الفاظ چھن چکے ہوں گے۔ وہاں کوئی سننے والا نہ ہوگا جوان کی باتوں کو سنے۔ زندگی ایک بے اعتبار چیز ہے، جب کہ موت بالکل یقینی ہے۔ ہم ہر لمحہ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہیں۔ جو چیز ابھی اگلے لمحہ آسکتی ہو، وہ گویا ہر وقت آرہی ہے۔ اس کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ آچکی ہے، بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ وہ آنے والی ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو‘۔ آدمی زندگی چاہتا ہے۔ مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں صرف موت اس کا استقبال کرنے کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔

انسان اپنی عظمت کا محل تعمیر کرتا ہے، مگر موت کا طوفان اس کو تنکوں کی طرح اڑا کر یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کوئی قدرت حاصل نہیں۔

فیصلہ کا یہ دن ہر آدمی کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے۔ اس دن ہر آدمی اپنی اصل صورت میں ظاہر ہو جائے گا۔ خواہ اس نے اپنے اوپر کتنے ہی زیادہ پردے ڈال رکھے ہوں، خواہ اس نے اپنے آپ کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں چھپا رکھا ہو۔

ہر آدمی کی اصل حقیقت خدا کے علم میں ہے، مگر دنیا میں خدا لوگوں کی حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔ آخرت میں وہ ہر ایک کی حقیقت کو کھول دے گا۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا کی ترازو کھڑی ہو اور ہر آدمی کو تول کر دیکھا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔ اس وقت کا آنا مقدر ہے۔ کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے بچا نہیں سکتا۔ کامیاب صرف وہ ہے جو آج ہی اپنے آپ کو خدا کی ترازو میں کھڑا کرے، کیوں کہ جو شخص کل خدا کی ترازو میں کھڑا کیا جائے، اس کے لیے بربادی کے سوا اور کچھ مقدر نہیں۔ موت سے پہلے آدمی کو بہت سے کام نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد آدمی کے سامنے صرف ایک ہی کام ہوگا— یہ کہ خدا کے غضب سے وہ کس طرح بچےـ ہر آدمی چل رہا ہے۔ ہر آدمی کا چلنا موت پر ختم ہوتا ہے۔ موت کسی کے لیے جنت کا دروازہ ہے اور

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page