Al-Risala · May 2012 · page 58

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۵۸

کسی کے لیے جہنم کا دروازہ۔ وہ انسان بڑا خوش قسمت ہے جس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اپنے آپ کو جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا پائے۔

آہ، وہ انسان جس کو اسی چیز کا شوق نہیں جس کا اسے سب سے زیادہ شوق کرنا چاہیے۔ آہ، وہ انسان جو اسی چیز سے سب سے زیادہ بے خوف ہے جس سے اسے سب سے زیادہ خوف کرنے کی ضرورت ہے۔ زندگی عمل کا وقفہ ہے اور موت خدا کی عدالت میں پیشی کا وقت۔

ایک دعا خدا یا، جب اہل دنیا سے میرا ساتھ چھوٹے تو مجھے خدا وند ذوالجلال کی قربت حاصل ہو جائے۔ مجھے انسانوں کی مجلس سے اٹھنا پڑے تو مجھے فرشتوں کی مجلس میں شامل ہونا نصیب ہو جائے۔ جب موت مجھے اپنے لوگوں سے منقطع کر دے تو میں اکیلا نہ ہو جاؤں، بلکہ مجھے اعلیٰ تر مجلس میں خدا اور اس کے فرشتوں کی صحبت میں رہنے کی سعادت حاصل ہو جائے۔ فہمیدہ خانم کا خط برادرم عبد المحیط خاں کے پس ماندگان میں تین خواتین شامل ہیں۔ اُن کی اہلیہ عابدہ خاتون (پیدائش: 1942)، ان کی دو لڑکیاں ، فہمیدہ خانم (پیدائش: 1964)، اور سعیدہ خانم (پیدائش: 1965)۔ فہمیدہ خانم فیض آباد (یوپی) میں رہتی ہیں اور دوسری صاحب زادی بمبئی میں مقیم ہیں۔ عبدالمحیط خاں کے متعلق فہمیدہ خانم کا ایک خط مجھے ملا ہے۔ اُس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: تعلیم ختم ہونے کے بعد پاپا (عبدالمحیط خاں) نے کئی جگہ تھوڑے دن سروس کی۔ جیسے ,Hydel. Dep. Jamia وغیرہ۔ پھر ان کو ٹلیکم گڑھ (مدھیہ پردیش) میں سروس ملی۔ وہاں سے پروموشن (promotion) کے بعد وہ چندولی پالی ٹکنیک میں سینئر لیکچرر کی پوسٹ پر آئے۔ پھر جلد ہی پالی ٹکنیک کے پرنسپل ہوگئے تھے۔ سروس سروس کرنے کے تقریباً 2 سال بعد ہی ان کی شادی 1959 میں عابدہ خاتون سے ہوئی۔ عابدہ خاتون، شاہ گنج (جون پور، یوپی) کے مشہور ڈاکٹر بدر الدین بی یوایم ایس (وفات: 1985) کی صاحب زادی ہیں۔ پاپا، امی سے بے انتہا محبت کرتے تھے جس کو خاندان کا ہر فرد جانتا ہے۔ امی نے بھی ہر موقع پر ان کا پورا ساتھ دیا۔ ان کی مرضی کے بغیر کبھی کوئی کام نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2012 All issues

Printed page