عبد المحیط خاں کی یادداشتیں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۲، صفحہ ۵۹
ہمیشہ ان کی پسند، ناپسند کا خیال رکھا۔ آخری دنوں میں انھوں نے امی سے کہا تھا: ’’تمھاری حکیمانہ باتوں سے مجھے بہت سکون ملتا ہے۔ ‘‘ وہ گھر سے جب بھی آفس کے لیے نکلتے تھے، یا کسی اور کام سے، پہلے وہ 2 رکعت نماز ادا کرتے، اور دعائیں پڑھ کر ہم لوگوں کو پھونک دیتے، پھر گھر سے نکلتے تھے۔ ایک بات جو امی سے وہ اکثر مسکرا کر کہتے تھے’’ آپ میری ناک ہیں، اور دونوں بیٹیاں میری آنکھ ہیں۔ ‘‘ اس طرح وہ ہم سب سے، بہت محبت کرتے تھے۔
انھوں نے جس طرح محنت سے پڑھائی کی، اسی طرح انھوں نے محنت اور ایمان داری سے سروس بھی کی۔ 37 سال کی سروس میں ان کی ایمان داری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا۔ وہ ہمیشہ حق پر قائم رہتے تھے، چاہے وہ کسی کا بھی معاملہ ہو۔ عہد کرنے کے بعد عہد کی خلاف ورزی کو وہ بہت ناپسند کرتے تھے۔ ان کے بارے میں ہر جگہ مشہور تھا کہ وہ بہت ایمان دار ہیں اور غلط چیز کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ اس لیے جہاں بھی ان کا ٹرانسفر ہوتا، لوگ ڈر جاتے۔ اسی طرح وہ سری نگر (گڑھوال، مدھیہ پردیش) دو دفعہ گئے تھے۔ پہلی بار وہاں پالی ٹیکنیک کھلنے جار ہا تھا۔ دوسری دفعہ وہاں کے حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ پاپا وہاں 3 سال رہے، پھر وہ فیض آباد پالی ٹیکنیک آگئے۔ یہاں کے حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ وہ زیادہ تر وہیں بھیجے جاتے تھے، جہاں حالت بگڑی رہتی۔ فیض آباد میں ان کے آنے کی خبر سنتے ہی لوگ اتنا ڈر گئے کہ پہلے سال کوئی لڑکا امتحان دینے ہی نہیں آیا کہ نقل نہیں ہوگی اور اس طرح ان لوگوں کا ایک سال خراب ہو گیا۔
دوسرے سال پھر یہ ہوا کہ خان صاحب ہیں اور نقل کی سختی ہے تو کچھ لوگوں نے لڑکوں کو غنڈہ گردی سکھائی، اُس وقت اندرا گاندھی کی گورنمنٹ تھی اور ایمرجنسی کا زمانہ تھا۔ پالی ٹیکنیک کی نمائش لکھنؤ میں لگی ہوئی تھی ۔ پاپا لکھنؤ گئے ہوئے تھے۔ یہاں لڑکوں نے احتجاج میں روڈویز کی بس پالی ٹیکنیک کے سامنے جلا دی۔ اس طرح کافی بچے جیل چلے گئے اور وہ سال بھی تقریبا خراب ہوا۔ پاپا نے ڈی ایم سے کہہ کر لڑکوں کو جیل سے نکلوایا۔ اُس وقت فیض آباد کے ڈی ایم سچد انند پانڈے